چلا ہوا کارتوسn——————————————nسچی بات تو یہ ہے، کہ عورت کے بغیر اس جہاں کا حسن ادھورا بلکہ ادھڑا ہوا ہے کہ بقول یوسفی خوبصورتی تو صرف زاویوں میں ہی ہے ، پھر یہ کہیں پڑھا بھی ہے کہ آرٹ کی انہتا کو ایکسٹریکٹ کرنے ، اینگلز، انعکاس، انعطاف، نشیب فراز، رنگ ، خوشبو، پینٹ ، مجسمہ سازی ، ڈرائنگ، اس سب میں مشکل ترین یا سب سے چیلنجنگ کام عورت کی شبیہ ابھارنا ہے- میں اس چیز پر ایمان بغیر تصدیق رکھتا ہوں ۔ ہاں یہ الگ بات ہے ، عورت میں فرمابنرداری نہ ہو تو مس ملٹی پل یونی ورسز بھی ایک زخم خوردہ بیوہ جسم فروش سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔ نافرمانی عورت کا روپ چھین لیتی ہے ، فرمابنرداری قبول صورت عورت کو بھی وہ روپ بخشتی ہے کہ داغی چاند ، اور کانٹے زدہ گلابوں جیسے استعارے بے معنی ہوجاتے ہیں ،nnنوٹ : ذاتی طور میرا ماننا ہے کہ کوئی بھی عورت قبول صورت نہیں ہوتی ، سب ہی خوبصورت ہوتی ہیں ، ذایئقوں کا فرق ہے بس — ہاں اب یہ اور بات ہے کہ ۔۔ فرماں بنرداری کے بغیر کی جانے والی وفاداری محض ایک چلا ہوا کارتوس ہے اور کچھ نہیں ۔

اترك رد