پہلے بڑا نشئی تھپڑ مارتا تھا ، اب چھوٹے پاوڈری نے مار دیا – اس میں اتنی حیرانی کیا ؟ وہ سنا نہیں ہے ؟ جیسی بوتھی ویسی چپیڑ ۔۔ سو جیسا چرسی ویسے ہیرونچی ، اور اگر اپنے ووٹر کے گال سیکے ہیں تو پھر کیا بڑی بات ہے ، لیڈر کے لیے اتنا تو چلتا ہے ، اور ہاں ماڈل ٹاون میں منہ پر گولیاں مارنے سے تو بہتر ہی ہے نا ;)nایک انسان کا قتل تو پوری انسانیت کا قتل ہے ، اور قتل کرنا بھی کیوں ہے کسی کو، زندہ رکھو اور تھپیڑے جاو — یہ زیادہ احسن اقدام ہے۔

اترك رد