پوسٹ – 2016-11-15

“کتنا خوش ہو رہا ہے نا اغلام باز “nnایک کروڑ اختلاف ہوں گے عدالتی حرکتوں سے لیکن آج جو کیا ہے ناعدالت نے اس پر میرا تو لول نکل گیا اور سچی بات ہے “عدالت کا ہاسا” نکل گیا عمران پر آج ۔ بڑے بھائی کا درجہ رکھنے والے ایک شریف بھائی نے ۔۔ اپنی تہذیب سے مجبور ہو کر مجھے یہ میسج کیا nn”عمران خان نے پاناما لیگ کے ثبوت میں اخباری تراشے اور اسد کھرل کی کتاب پیش کی جس پر سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ اخبار آج تازہ ہے کل اس پر پکوڑے بکیں گے اگر اخبار لکھے کہ اللہ رکھا نے اللہ دتا کو قتل کیا تو عدالت اللہ رکھا کو پھانسی چڑھا دے؟”nnیہ تو ہوئی ایک مہذب بیستی لیکن اس کے بعد دریا کو انڈر وئیر میں جس طرح بھائی نے بند کیا ۔۔ وہ کمال کردیا لگتا ہے شب بھرپہلوئے یار میں تشریف فرما تھے بھائی صاحب وہ کہنے لگے nn”ایک کہاوت ہے کہ “باسی اندام نہانی اور اخبار جہاں مل جائے پھاڑ دو۔۔”n”ایک اور کہاوت ہے کہ سانپ اور مقعد جہاں مل جائے مار دو۔”nnیہ سب کہہ کر وہ مجھے پیار سے کہنے لگے nn”کتنا خوش ہو رہا ہے نا اغلام باز “nnواہ مطلب یہ مثال میں نے آپ سے سیکھی اور میں ہی “اغلام باز” ہوگیا nnنوٹ : اب چونکہ رسمی طور پر بڑا بھائی نہیں کہا ۔۔ اس لیے اسٹیٹس لکھنے کے بعد بھائی سے انگوٹھا لگوانے (اسٹیٹس پر ) میسج باکس میں گیا تو کہنے لگے مناسب کرلو ۔۔ میں نے کہا کہ حضرت آپ کو غلاظت والے الفاظ کہاں نظر آئے ۔۔ مطلب آپ کے چ اور گاف کو میں نے گوگل کر ادب کا چھینٹا مارکر اندام نہانی اور مقعد کردیا بالترتیب ۔۔ اس سے زیادہ کیا چاہئے آپ کو “nکہتے ہیں نہیںnn” گاف اور چے لکھو ۔۔”nn واہ واہ ۔۔ یعنی واقعے بڑے بھائی صاحب ہیں ۔۔ لیکن یہ وہ منشی پریم چند کے بڑے بھائی صاحب نہیں بلکہ شفیق احمد والے روفی ٹائپ بھائی صاحب ہیں ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.