پوسٹ – 2018-08-20

وفاقی اردو اور کراچی یونی ورسٹی کے ٹوٹے دلوں کی کرچیاں اکثر انجینئرنگ یونی ورسٹیوں میں گرتی ہیں :(nدوہزار تین کے اوائل میں کراچی یونی ورسٹی کے گیٹ کے باہر فٹ پاتھ پر ایک لڑکی کو رسما پروپوز کردیا ، اس وقت مین سمجھا تھا کہ لڑکی سے دوستی بھی ہو سکتی ، کیوں کہ اسی کے بعد پتا چلا تھا ، کہ اس کا نکاح آلرڈی ہوچکا تھا تو سمجھا کہ چلو ہم اچھے دوست ہی صحیح ، بعد میں پتا چلا کہ یہ موسٹلی کو ایجوکیشن میں پڑھنے کی وجہ سے اس ماحول سے ہم آہنگ ہوتی ہیں ، اور انجینرنگ والے بیچارے ہر اک مسکراہٹ کو مسکان سمجھ بیٹھتے ہیں ۔
ای میل تو آج بھی یاد ہے پر پہلے ہمت نہیں تھی اب عمر نہیں ، گویا کیا ستم ہے کہ اس کی صورت بھی غور کرنے پر یاد آتی ہے ، زیادہ حرکت حافظے کی کمزوری کا سبب بنتی ہے ، برکت کی بات اپنی جگہ ۔ nکراچی یونی ورسٹی بہت کم جانا ہوا ، اور جب بھی جانا ہوا افسانہ لکھنے کے چکر میں گیا ، لیکن اندر ہی نہیں جانے دیا کسی نے — تو پھر باہروں باہر بچیاں دیکھ کر واپس آگیا– اور خود سے کہانی بنا کر لکھ ڈالی :(nآخر کیوں نہ دکھ ہو، جب کل کے لونڈوں کو ٹنا ٹن گروپ فوٹز پوسٹ کرتے دیکھتا ہوں کبھی انسٹا پر ، کبھی فیس بک پر – بہن کی آنکھ بیس بیس بائیس بائیس سال کے لونڈے اور کانفیڈنس دیکھو ، اور ایک اپنا یہ حال تھا کہ کلاس میں ستر سٹوڈنٹس کے آٹے میں نمک کی طرح موجود پانچ لڑکیوں میں سے کسی ایک نے ایک بار یونی ورسٹی سے نیپا تک واک کیا کرلی ساتھ ، تو اپنا ففٹی شیڈز آف گرے ہوجاتا تھا :'( nاسی طرح دوہزار نو کے وسط میں فیصل آباد کی جی سی یونی ورسٹی بھی اس چکر میں دیکھ ڈالی کہ شاید اس لڑکی سے ملاقات ایک پانچ منٹ کی کولڈرنک سے کچھ زیادہ ہوگی ، لیکن نہیں ، یہاں بھی وہی ہوا — اپنا نصیب ہی نہیں سچی محبت :(nپین دی سری محبت دی
اب میں بھی کیا کروں بہت دور ہوں ، انکل مجبور ہوں ، پلیج مجھے چھوڑ دیں ، میں مرد ہوں کوئی کھسرا تو نہیں ہوں نا

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.