ہم سب اقرا کے ماننے والے ہیں, ہمارا آغاز ہی لفظ پڑھ یعنی اقرا سے شروع ہوتا ہے, ہمارے دین میں لفظوں کی تکریم اور اہمیت کا اندازہ لگانے کے ہیے ایک یہی بات کافی ہے. کہ پہلی وحی کا عنوان القلم تھا, ان لفظوں کا بوجھ بہت بھاری ہوتا یے , یہ اپنے اصل مالک یا مصور کی امانت ہوتے ہیں جو اس نے ہمیں سونپی ہوتی ہے, آج ال مصور کےمحبوب کی ناموس پر باتیں ہوں اور ہم اسی کے دیے ہویے قلم , لفظ اور سوچوں کو مصلحت کے دھنیے سے دھلا گھونگھٹ پہنائے رکھیں, تو ہماری ذات ایک کتے سی بھی بدتر ہے کہ وہ جس در کی روٹی کھاتا ہے اسی درپہ دم ہلاتاہے.

اترك رد