یہ الٹے بھی لٹک جائیں توبھی ناموس رسالت کے نون تک کو بنہیں چھو سکتے، ایسے واقعات در اصل ہم جیسے سیاہ کاروں اور دنیا داروں کا امتحان ہوتے ہیں، کہ ہم کس کیمپ میں ہیں، نبی کی حفاظت اور ناموس پر ہوتے حملوں کو روکنے کے لیے رب کی ذات ہم لوگوں کی محتاج نہیں ہم تو شکر گزار ہیں کہ وہ ہمیں اپنے ادنی بندوں میں شمار کر کے یہ شعور بخشتا ہے، یہ بصیرت عطا کرتا ہے کہ ہمیں کالی کملی کی چھاؤں میں ہی اپنا بیڑا پار ہوتا نظر آتا ہے اسلئے ہمیں بس اپنا کھونٹا قایم اور مضبوط رکھنا ہے۔ اور وہ کھونٹا ہے۔nnمیری بنیاد محمد اور میں بنیاد پرست۔

اترك رد