ایک پرانی پوسٹ — آج زیادہ مزا کرے گی nnمنڈ منڈ کے لگانے والے لبرل n———————————————–nnلبرل ازم نظریہ یا سسٹم نہیں بلکہ اعصابی کمزوری ہے -nnیہ ہوگئی مکمل بات – اب تفصیل ان کے لیے جن کو تشریح کی ضرورت پڑتی ہےnnتشریحnnاصل میں لبرل ہوتا ہے مٹھل قسم کا نشئی اس لیے اس کو یہ سمجھ نہیں آرہا ہوتا کہ کسی کو کیسے کسی غلط چیز سے منع کیا جاسکتاہے ، کیوں کہ اس کام کےلیے چاہئے ہوتی ہے جرات، اور جرات کا ڈارئیکٹ تعلق ہوتا ہے اعصابی قوت اور ول پاور سے ، جو کہ لبرلز کی ہوچکی ہوتی فارغ یہ ساری رات نیوز کاسٹرز دیکھ کر ہاتھ کھینچتے ہیں اور اتنی کوشش کے باوجود، صبح تھوڑا سا پیشاب نکلتا ہے ، یہ تو ان کا حال ہوتا ہے ، نشہ کر کر کے اور منڈ منڈ کے لگانے سے اس لیے ان سے خود بھی کچھ نیں ہوتا اور دوسرے اگر نہی عن المنکر کریں تویہ کہتے ہیں کہ ایسا کیسے ہوسکتاہے کہ ہم کسی کو جج کریں — ظاہر ہے جج کرنے کے لیے چاہیے ہوتی ہے مشاہدہ اور فیصلے کی قوت ، جس کا بھی براہ راست تعلق ہوتا ہے اعصابی طاقت سے ، اور وہ اعصابی طاقت کا دشمن ہوتا ہے ، نشہ اور منڈ منڈ کے مشت زنی کرنا ، نشئی ، مٹھل اور جھوٹا یہ سب ایک ہی تھیلی میں ہوتا ہے ، اس لیے ثابت یہ ہوا کہnnلبرل ازم نظریہ یا سسٹم نہیں بلکہ اعصابی کمزوری ہے -nnثبوت چاہئے ، تو ان لبرلوں کے بولنے کے انداز پر ہی غور کرلیں ، باقی باتیں تو چھوڑ ہی دیں ۔

اترك رد