کراچی کی پانچویں قوم کےپڑھے لکھے جاہل مڈل کلاس گٹکوں نے کروٹین کے پتوں اور منبر کی سیڑھیوں میں اپنے روحانی باپ عرف الطاف بھای کی شبہیہ دیکھنے کے بعد غالبا جنگ اخبار کی کاپیاں جلوا دی تھیں کہ اس نے ان کے بے گردن خنزیر یعنی پیر الطاف کی شان میں گستاخی کی تھی اور آج کراچی کے اکثر گٹکے عاطف قادیانی کی حمایت پر کمر بستہ نظر آتے ہیں ۔ فرق بس اتنا ہے کہ آج والد صاحب بدل چکے ہیں یہ لوگ۔ ورنہ نواے وقت کی کاپیاں بھی جل رہی ہوتیں جو قادیانیوں کے اشتہارات چھاپتا ہے۔پر یہ شاید میری غلط فہمی ہے کیوں کہ پانچویں قوم کے گٹکوں کا کیا تعلق ناموس رسالت سے ؟ ان کے لیے تو اگر نہ مگر صرف الطاف نگر کی ناموس کی حفاظت اہمیت رکھتی ہے۔

اترك رد