ویسے لبرلز اور ملحدین کو تو مولانا مودودی کے خلاف نہیں ہونا چاہئے nکیوں ابوالاعلی مودودی نے تو دیوبند کا حلوہ پانی سوری حقہ پانی سرے سے ہی بند کردیا تھا ۔۔ کیسے ؟ ارے تفہیم القران لکھ کر اور کیسے ۔۔ یہ کیسے گوارا ہوگا جبہ دستار کو ۔۔ یہ الگ بات ہے کہ اقبال سے بڑا کلین شیو مولوی کوئی آج تک نہیں گزرا کم از کم معلوم تاریخ میں ۔۔ زیادہ الجھن یہ ہے کہ جماعتیوں نے خود مولانا موودی کی ہی بجادی ۔۔ خیر یہاں موضوع جماعتی نہیں ۔۔ لبرل ہیں ۔۔ وہ ایسے کہ لبرل سالے اور ملحدیں لاجک کا لچ تلتے ہیں ہر جگہ اور مولانا مودودی نے اسلام کو روحانیت کے مدار سے نکال کر لاجک کے گرد پلے اپ کیا ہے اور کیا خوب کیا ہے ۔۔ یعنی ایک طرف مولویوں کی جمعرات پارٹی بند کردی ۔۔ اور دوسری طرف لبرلز کے منہ ۔۔ اب جو بیچارے جماعتیوں کو لتاڑتے پھرتے ہیں تو ان سے بس یہ کہنا ہے کہ بیٹا جماعتیوں اور آج کے جماعتیوں نے مولانا مودودی کی بنفس نفسیس پٹخ دی ہے ان کو الگ کر کے بجایا کرو ۔۔ مجھے تو یہ بھی شک ہے کہ جماعت کے کچھ پرانے شریر بڈھوں نے ہی مولانا کو قادیانی کیس میں پھنسوایا تھا ۔۔ nمذاق بر طرف یہ اگر ایسے ہی رہے تو پورس کے ہاتھی نہیں پورس کے جماعتی بن جائیں گے ۔۔ اپنی صفیں الٹنے والے زعم تقوی کے مریض ۔۔ کوئی ایک کیس ہو تو بات ہے ۔۔ یہاں تو جیڑا پنو لال اے ۔۔ تشریف 😛

اترك رد