نوے کی دہائی کے مشہور سائنس فکشن کارٹون سیریز “جونی کوئیسٹ “جس نے دیکھے ہوں اسے آج کل کا گوگل گلاس یا آکیولس وغیرہ حیران نہیں کر سکتا یہ الومیناتی لوگ کافی عرصے پہلے سے محنت شروع کردیتے ہیں سچی بات یہ ہے کہ مجھے یہودی ایک وجہ سے بہت پسند ہیں ۔۔ وہ یہ کہ ۔۔ کم از کم اپنے طاغوتی نظام سے کتنے مخلص ہیں ۔۔ اخلاص جیسی کوالٹی کہیں بھی ہو مجھے بہت پسند آتی ہے۔۔ صرف کوالٹی ، اللہ تعالی نے اپنے نبی کی حضر ت عمر کے لیے مانگی گئی دعا قبول بھی اس ہی لیے کی تھی غالبا کہ ، عمر کا اخلاص ابوجہل سے بڑھا ہوا تھا اس لیے میرے نبی نے مانگ کر لیا تھا عمر کو ۔۔ اور عمر فیصلہ کرنے کی قوت سے مالا مال تھے اور فیصلہ کرنے کے لیے منطق ہونی چاہئے ؟ کہاں معاذ اللہ نبی کو قتل کرنے نکلتے ہیں پھر بہن کے گھر سے اللہ کے نبی کے گھر کا سفر ، دنیا ہی پلٹ گئی یہ اخلاص تھا جو کسی درجے میں ابو جہل سے بڑھا ہوا تھا ۔۔ جب ہدایت آئی تو مکہ کے پہاڑ گونج اٹھے تھے اللہ اکبر سے ۔
خیر یہاں موضوع حضرت عمر سے محبت کا اظہار نہیں کیوں کہ اس کام کے لیے سائبر اسپیس میں اسپیس نہیں ۔۔ بہت بھاری آگ ہے بہت تپش ہے عشق عمر کی ۔۔ اور حرارت تو ویسے بھی کمپیوٹر ڈیٹا کی دشمن ہوتی ہے کبھی یو اس بی اور موبائل ساتھ رکھ کر بار بار کال یا ایس ایم ایس کریں اندازہ ہوجائے گا ۔۔ خیر عمر سے محبت میں ہونی بھی چاہئےان کا ایک اسلوب “بہادری” ہی کافی ہے ۔۔ اب کوئی شیعہ نہ تپے یار عمر سے محبت کا مطلب علی سے بغض نہیں ہوتا یہ آسمان نبوت کے یکساں چمکتے ستارے ہیں بس کہنا یہ ہے کہ آپ اگر گمراہ بھی اخلاص کے ساتھ ہوں منافقت کے ساتھ نہیں تو آپ کو اللہ اپنی جانب پلٹا ہی لیتا ہے اور منافقت کوئی شخص اگر بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر بھی کرے تو ہضم نہیں ہوتی ، مشرف بھی تو کعبہ کے اندر جا چکا ہے نا اپنے ناپاک قدموں سے کیا فرق پڑگیا اس پر ؟ آج بھی رزیل ہی ہے ؟ ہےنا ؟ کبھی سوچا کہ گمراہ کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟ راہ سے گم یا جس کی راہ گم گئی نا ؟ تو اللہ قران میں ہی فرماتا ہے کہ” رستہ ہم تمھیں دکھا دیں گے “n مدعا یہ ہے کہ یہودی ہوں یا کسی اور طرح کے کافران لوگوں میں اپنے مذہب ملک اور قوم کو لے کر اخلاص ضرور ہے اور اخلاص کی بنیاد پر اللہ کا ہی اصول ہے کہ “یہ دنیا عمل کا گھر” اور ہمارا عمل ؟ تو کافر میں کافر ۔یا پھر مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے گھٹیا لبرلزیہ
مانتا ہوں کہ پن ہول کیمرے کی وجہ سے ہی گوگل آج گلاس بنانے کے قابل ہوا یا کوئی بھی ورچوئیل ریئیلٹی اسی کی ایکسٹینشن ہے اور پن ہول کیمرا ابن الہیثم کی ایجاد تھا ۔۔ لیکن کوئی اپنے پرکھوں پر کب تک فخر کر سکتا ہے ؟ کب تک ؟ کیا ہمارے ذمے کچھ نہیں ؟ کیا جو کرنا تھا قرون اولی نے کرنا تھا ؟ ہمارا کام بس ایجادات کو استعمال کرنا ہے ۔۔ ہم وہ بھی کرلیں اللہ وہ بھی مان لے گا پتہ ہے کیوں ؟ صرف ایک صورت میں کہ ہم مومن ہی خالص ہو جائیں وجہ یہ ہے کہ nnایجادات آج کا من و سلوی ہے nnجو اللہ نے ان لوگوں کے سر پر مار کر ہمیں صرف اخلاص کا حکم دیا ہے ۔۔ اور وہ ایک حکم جو ہمیں دیتا ہے ہر حکم اور حاکم سے نجات تمام بتوں کو مسمار کرتا ہے ، لیکن ہم تو عبادات بھی کہاں کرتے ہیں یہ عبادات اور اللہ کا قرب ہی تھا کہ بغیر کسی موبائل فون کے سیدنا عمر فاروق “یا ساریہ الجبل” کی آواز لگاتے ہیں تو اللہ ان کی آواز کو دور دراز پہنچا دیتا ہے ۔۔ ہمیں تو ضرورت بھی نہیں کچھ ایجاد کرنے کی ۔۔ ہوا پر مامور ہے میکائیل ۔۔ آواز ہوا پر سفر کرتی ہے ۔۔ فرشتے ہوتے ہیں نور یعنی انرجی ، آواز کیا ہے انرجی ؟ لیکن اس انرجی کو پاور سورس سے یعنی خدا سے ڈسکنٹ کر کے تو ہم پھر پانچ پانچ ہزار کے موبائل فون استعمال کرنے میں ہی فخر محسوس کریں گے nnہم نے قران کو تمھارے لیے آسان کردیا nnسائینس کیا بیچتی ہے ان آیات کے آگے ؟ شرط اخلاص ہے ٹیکنالوجی سے رجوع کرلو یا خدا سے ۔۔ لیکن اخلاص ہو دونوں صورتوں میں ۔۔ یہ باتیں میری شاید بے ربط لگیں کیوں کہ مجھے لکھنا نہیں آتا بس ادھر ادھر سے جمع کر کے پیسٹ کردیتا ہوں یہاں بات مجھے لکھاآنے یا آنے کی ہے بھی نہیں۔ بہرحال ذرا سوچیئے دجالی فتنے اپنی جگہ ۔۔ اس جنگ میں یا تو ہتھیار اپنے بنا لیں یا ان سے چھین لیں چوائس آپ پر ہے ۔۔ورنہ n”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے” کا اسٹیکر تو ہم لگا ہی لیتے ہیں
پوسٹ – 2016-11-16
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد