میں روزانہ آخری شب ، لفظوں کو دوزانو کیا کرتا تھا، آج بھی ایسی ہی رات تھی ، آخر کر وہ سب کمرے میں جمع ہوگئے – میں ایک نظر ان پر ڈالی ، اور سگریٹ سلگا لی – دوسرے کمرے سے موٹر کی گھوں گھوں ، لفظوں کو تنگ کررہی تھی ، میرے کمرے کا پھنکا ، اس قدر شور کرتا تھا ، کہ خیالات دیوراوں سے جا لگتے ، لفظ پھر انہیں پکڑ پکڑ کر لایا کرتے ، آج خیالات بھی لفظوں کے ساتھ سر جھکائے تھے ۔۔nnدیکھو نا، کیا ہوا ، لکھتے کیوں نہیں ہو کچھ ، میں ان سے منہ موڑے رہاnnمیں لکھاری نہیں ، میں نے راکھ جھٹکی ،nnنہیں ہو، مان لیا، پر ہمیں برتنا تو آتا ہےnnنہیں آتا – میں ہنوز انکاری تھاnnلیکن یہ سب یہ کیا ہے پھر ؟ ایک لفظ اٹھا ، اس نے میرے منہ پر اٹھارہ سال پرانی ڈائری دے ماری ، پیلے ورق کراہنے لگے ،nnیہ ؟nnخیالوں کی بازگشت ہے ، بس بچپن کی کچھ شرارتیں اور چند اقتباسات ، اس میں میرا کیا ؟nnمیں نے لفظوں کی چال انہیں پر الٹ دیnnلفظ سوچ میں گم ہوگئےnnکہتا تو صحیح ہے ، نہ تم لکھاری ہو ، نہ تم تمھارا ادب کی حساسیت سے دور تک تعلق ہے ، ایک سفاک آدمی کے سامنے ہم کیوں دوزانوں ہیں ؟nnایک باغی لفظ چلایاnnاٹھو اٹھو ، چلو یہاں سے ، بےکار آدمی ہے –nnمیں دوسری سگریٹ سلگا چکا تھاnnکمرہ خالی ہو رہا تھاnnلفظ مایوس سے جا رہے تھےnnخیالات ان سے لپٹے مجھے ترسی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ،nnرکو – میں نے ڈسٹ بن میں سگرٹ مسلیnnیہ بے حسی تو لیتے جاو، میں نے تلخی سے ایک طرف تھوکاnnوہ واپس پلٹے ، ان کے پاوں لعاب میں پھسلےnnاور وہ سب میرے سامنے ڈھیر ہوگئے اب کی بار ان کی پیشانیاں زمین پر لگی ہوئی تھیں ، اور ناک خاک ہورہی تھیnnموٹر گھوں گھوں کر رہی تھی ، پنکھا اب بھی گرم ہوا پھینک رہا تھاnnخیال اڑ اڑ کردیواروں میں دیوراوں سے ٹکراتے پھر رہے تھے ۔۔

اترك رد