چھ سات مہینے کا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ ، سب کی بات نہ بھی کی جائے تو بھی اکثر سے زیادہ ، مسلمان ، پاکستانی ، یہ وہ دو مخلوقات ہیں ، ان کو اگر کوئی یہ کہے نا کہ مجھے فلانے کام سے ایشو ہے ، تو یہ اسی کام کو آپ کی چڑ بنا کر ، خود کو اعلی ظرف ، اور آپ کو حساس گردانتے ہیں ، کہ ارے بھئی اس سے کیا ہوتا ہے ، اتنی سی توبات ہے ۔
مختصرا یہ کہ ، جس کام سے منع کیا جائے ، وہی کام کرنے میں رغبت ہوتیہ ے ان کو، پھر کہتے ہیں ، ارے یہ بھی کوئی محسوس کرنے والی بات ہے ؟ اور پھر ، ان کے ساتھ بے حسی کی جائے تو کہتے ہیں آپ بڑے سفاک ہو – منافقت میں عبداللہ بن ابی کے بھی باپ ہیں ایسے افراد، وہ زندہ ہوتا اس قماش کے پاکستانیوں کے ہاتھوں بیعت کرلیتا ۔nnا س میں صنف کی تخصیص نہیں ، اس میں عمرکی کوئی تخصیص نہیں ، اس میں بیک گراونڈ اور تعلیم تجربے کی کوئی تخصیص نہیں ۔nnنوٹ: اس پوسٹ سے کسی کو کوئی ذاتی تکیف پہنچے تو یہ اس کا اپنا مسئلہ ہے ، بالکل اسی طرح ، جس طرح اسے دوسروں کو پن چبھو کر اعلی ظرفی چڑھ جاتی ہے ۔
پوسٹ – 2019-05-09
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد