کہتے ہیں کہ اگر اپنی بات سمجھانا چاہتے ہو تو پہلے دوسرے کی سمجھنا سیکھو .nبہت سے افراد ,صرف جواب دینے کے لیے سنتے ہیںn سمجھنے کے لیے نہیں۔۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ, یہ جو قدرت ںے ایک زبان اور دو کان دئیے ہیں اس میں ،دو سن کر، ایک کہنے کی حکمت پوشیدہ ہے۔n یعنی جتنا بولنا چاہتے ہو اس سے دوگنا سننے کی عادت ڈالوn دو جملے کہنے ہیں تو چار سننے کی صلاحیت پیدا کرو۔n دس کہنے ہیں تو بیس سننے کی عادت ڈالو ،
اور ضروری نہیں کہ یہ جملے بازی ،لڑائی جھگڑے منفی مباحثوں یا پھر غیر ضروری ڈسکشن پر ہی موقوف ہو بلکہ یہ اصول مفید مکالمہ یا پھر گفتگو کے دوران بھی لاگو کیے جاسکتے ہیں بلکہ وہی کیے جانے چاہیے۔nnبول چال کا ہنر تاریخ انسانی کی اہم ترین صلاحیتوں میں سے ایک ہے اور یہ ہنر یہ ٹیکنیک لیڈر ٹیچرز اور کلیدی عہدوں یا ذمہ داریوں کو سنبھالنے والے افراد کے لیے دگنی اہمیت کی حامل ہے۔nnبولنا ہو یا پھر سننا سوال کرنا ہو یا جواب دینا کوئی بھی چیز بے ربط نہیں ہوتی نہ ہونی چاہیے خصوصا سننے کا عمل تو کلی طور پر بےربط غیرمنظم یا پھر بے ترتیب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ سننے کے عمل سے گزرتی ہیں اس لیے ہیں کہ آپ کچھ سیکھنا سمجھنا یا سننا چاہتے ہیں اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوا بول چال یا کمیونیکیشن کو بھرپور طریقے سے رواں رکھنے بولنے اور سننے کے عمل کو بے نوا ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ سوال کرنے کا طریقہ معلوم ہونا چاہیے وقت مناسب ہے کیونکہ یہ بات بہرحال ممکن ہے کہ غلط سوال یا پھر سوال کا غلط طریقہ دونوں صورتوں میں آپ کو غلط جواب کے سوا کچھ نہیں دے گاnnاسی طرح غلط وقت پر پوچھا جانے والا ٹھیک سوال بھی غلط جواب کا سبب بنتا ہے غلط وقت مراد وہ وقت جب جس شخص سے سوال پوچھا جارہا ہوں اس کی ترجیحات آپ یا پھر آپ کے سوالات سے زیادہ اہمیت کے حامل ہو اور اسی وجہ سے وہ آپکے سوال یہ آپ کی طرف متوجہ نہ ہو سکے اور نہ اسے ٹھیک سے سن سکے تو یہ ان کا بھرپور طریقے سے موجود ہے کہ آپ کو درست جواب نہیں ملے گا اور یہی ہمارا آج کا موضوع ہے کہ ٹھیک وقت ٹھیک تناظر میں ٹھیک سوال کیسے پوچھا جائےnnدرج ذیل تجاویز اور اصولوں پر عمل کر کے آپ ٹھیک ٹھیک سوال کرنے کی کوشش کیجئے اور نتیجہ دیکھئے۔nnخطیبانہ انداز اپنانے سے گریز کیجئےnnجوشاب یا فن تقریر یا پھر جوشیلا خطیبانہ انداز یہ سب اپنانے سے آپ کو سب کچھ مل سکتا ہو گا لیکن آپ کے سوال کا جواب نہیں کیونکہ ایسے سوال جو مذکورہ انداز میں پوچھے جائیں وہ جواب کی نیت سے پوچھے ہی نہیں جاتے حتی کہ یہ سوال باقاعدہ سوال بھی نہیں ہوتے بلکہ ان کو بنایا یا پوچھا ہیں اس لئے جاتا ہے کہ سامنے والا اشتعال میں آئے یا پھر آپ اس کو کسی ایک مخصوص جوابی اپنی مرضی کے رسپانس تک لے کے جانا چاہ رہے ہو جو کہ محض ایک بے کار کی بدمزگی کے سوا کسی اور نتیجے کی طرف نہیں جائے گاnnدوستانہ انداز میں بیان کیجیےnnایک اچھے سوال کا مقصد صورت حال کی وضاحت اور مناسب جواب ہوتا ہے ایسا سوال جو سامنے والے کو صورتحال کی مکمل انڈرسٹینڈنگ دے کر اس سے جواب دینے پر مائل کرے میں نے مائل لکھا ہے مجبور نہیں ایک ایسا سوال ہی اچھا وضاحتیں سوال سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں سامنے والے کے ذہن میں صورتحال پوری طرح آشکار ہوجائے اور وہ اس پہ غور کر کے جواب دینے کے قابل ہو سکے ساتھی ساتھ پہنچانے کا انداز یا طریقہ انتہائی دوستانہ نرم ہونا چاہیے
جبکہ دوسری طرف اگر آپ دوستانہ رویہ اپنائے بغیر محض سامنے والی کو ذلیل کریں اسے بےعزتی کرنے کی نیت سے سوال کریں تو لامحالہ وہ شخص اپنے دفاع پر مجبور ہوجائے گا اور ایسی صورت میں بہت مشکل ہے کہ آپ کو ایک ایماندارانہ اور واضح جواب مل سکے تو سوال پوچھ لیکن دوستانہ انداز میں اتنا صاف اتنا کلیئر کے سامنے والے کو جواب دینے میں کسی قسم کی کوئی تامل نہ ہو۔nnبندے لگانے سے گریز کریںnnکہتے ہیں کہ سوال کرنے اور ٹریپ کرنے میں فرق ہے مثلا کوئی ایسا سوال جس کا ہرممکن جواب صرف اور صرف سامنے والے کو پھانسنے کا تاثر دے رہا ہوں تو وہ سوال نہیں بلکہ ٹھنڈا ہوتا ہے اس کے جواب میں آپ دفاع کی امید تو کرسکتے ہیں لیکن جواب کی نہیں مثلا اگر آپ سے کوئی یہ سوال کرے کہ کیا آپ اب بھی پاگل خانے میں زیر علاج ہیں یا پھر کیا آپ اب بھی اپنی بیوی سے بے وفائی کے مرتکب ہورہے ہیں یا پھر آپ نے جس شخص کا سر پڑھا تھا کیا وہ زندہ بچ گیا اب ان سوالوں کا جو بھی جواب ہو وہ کم ازکم معنویت اور ایمانداری سے عاری ہوگا اپنے سوال دوسرے کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے مرتب نہ کریںnnسوالوں کا دائرہ متعین نہ کریں
یہ بات ٹھیک ہے کہ چند سوال واقعی ہاں نہ معلوم نہیں آپشن بن آپشن ٹو اس طرح کے جوابات کے متقاضی ہوتے ہیں لیکن اکثر اوقات ایسے جوابات غلط ہوتے ہیں سو بہتر یہ ہے کہ آپ غیر محدود سوال یا پھر اوپن مائنڈ سوال کیجئے جن کا کوئی مصنوعی دائرہ نہ ہو کہ صرف ہاں میں جواب دینا ہے یا نہ میں یا پھر چند آپشن میں سے منتخب کرنا ہے اور اس کے بعد جواب دینے والوں کو تھوڑا وقت دیجئے کہ وہ مناسب وضاحت تفاصیل کولیاں تجزیات مظاہر ابہام اشکال سب بیان کرسکیں اور اس کے جواب میں یہ تمام چیزیں بدرجہ اتم موجود ہیں بہت نہ سہی کم از کم ضرور جواب میں تفصیل کو بیان کر سکے سوال کیا جا رہا ہوں آپ اسے ذہنی کشادگی کے ساتھ اور دباؤ کے بغیر جواب دینے کا موقع دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو اولیکس رکھتے ہوئے جواب دیتا چلا جاتا ہےnnشکریہ ادا کرنے کی عادت ڈالیں
عدل سے ڈر رہا بدنامی ہو ذہن کم ظرفی کی طرف آمادہ ہو تربیت فطرت میں احسان فراموشی اور تلخی گلی ہوئی ہو اس کے باوجود زبان سے شکریہ کہ دو بول جادو اثر رکھتے ہیں اپنے مطلوبہ جواب کو وصول کرکے شکریہ ادا کیجیے کہ اس شخص کے وقت اور جواب کا کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپکو دوبارہ اسی آدمی سے سوال پوچھنے کی ضرورت پیش آجائے۔nnذہنی دباؤ یا کسی منفی صورتحال میں گرے شخص سے سوال نہ کیجئے۔nnایسے وقت سنبھال نہ کریں جب سامنے والا کسی منفیت دباؤ کی صورت حال میں گرا ہوا ہوں سوال کرنے کے لئے بہترین بات کا شعور ہونا ہی جواب ملنے کا ضامن ہے ایک لمحے سوچیے کہ آپ کو جواب کی جلدی تو نہیں اگر نہیں تو اسے تھوڑا سا ریلیکس ہونے کا وقت دیجئے آپکا یہ انتظار اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آپ کو ملنے والا جواب کوالٹی اور تفصیل دونوں کے لحاظ سے بہت ہی اعلی ہوگا کیوں کہ آپ نے جس سے سوال کیا اسے سوچنے اور کرنے کا وقت دے دیا۔nnبراہ راست سوال سے گریز کریں
گو کیا مناسب انداز میں مخصوص اور جامع جواب کے لیے یہ کوشاں ہیں لیکن کوشش کیجیے کہ بہت زیادہ براہ راست یا پھر مخصوص کر کے سوال نہ کریں جس سے سامنے والے کو یہ تاثر ملے کہ آپ اسے مجبور کر رہے ہیں کہ وہ کم اور مختصر بات کرکے محض آپ کو اہمیت دینے کے لیے جواب دے یہ آپ کے وقت کو اہمیت دینے کے لیے جواب دے ایسی صورتحال میں انسان تنگ آکر سخت جواب بھی دے سکتا ہے خصوصا ایسے افراد جو ہروقت ٹینس صورت حال میں رہتے ہیں جن کے مسئلے شیطان کی ہاتھ کی طرح ہوتے ہیں جن کا انسان جن کی نئی ان کا کھانا پینا صحت افزا نہیں ہوتا جو ایکسرسائز سے دور ہوتے ہیں جو جن کی نیند پوری نہیں ہوتی جو فٹ نہیں ہوتے پر وقت چلے جاتے ہیں ایسے افراد سے سوال کرنے کا طریقہ براہ راست کے بجائے بالواسطہ ہونا چاہیےnnبراہ راست سوال کی مثال
ہمیں کس طرح کی فلم بنانی چاہیے رومانوی یا ڈراونی
بالواسطہ سوال کی مثالعوام اس وقت کس طرح کی فلمیں دیکھنا چاہ رہی ہے اور ہمارے پاس فلم بینوں کی ضروریات اور شوق کی تسکین کے لئے کیا آپشنز اور ذرائع ہیں nnخاموشی سنہری نعمت ہے
اپنے آپ کو سننے پر مائل کریں مجبور نہیں مائل اپنے ذہن کو بار بار یہ جملے کہہ کر باور کروائیں مجھے لوگوں کو سننا پسند ہے میں اپنی مرضی سے اپنی پسند سے لوگوں کو سننا چاہتا ہوں میرے ذہن کو لوگوں کی باتیں سننا اچھا لگتا ہے یاد رکھئے گفتگو کر دو طرفہ نہ بھی ہو تب بھی کمینیکیشن آتا ہے سوالوں کے درمیان بخشے لیجئے گہری سانس لیجیے اس عمل سے آپ کو اور جس سے سوال پوچھا جارہا ہے اسے سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا تاکہ وہ آپ کے اگلے سواروں کے لیے خود کو تیار کر سکے
یہ عمل آپ کی بول چال کو بامعنی گفتگو بنانے میں مدد دے گا نہ کہ تفتیش کا سا ماحول ۔nnآخر میں ایک بات یاد رکھیے کہ سوال وہ پوچھیں گی جن کا جواب دینے میں آپ کو بھی کوئی تامل نہ ہو اور اس طرح پوچھے جس طرح اگر آپ سے پوچھا جائے تو آپ جواب دینے میں کسی الجھن یا چراٹ کا شکار نہ ہوnnاس کا طریقہ بہت سادہ اور بہت آسان ہے کہ nاب جو بھی سوال جس سے بھی کرنا چاہتے ہو جنرل محرک کے وہی سوال اپنے آپ سے کیجئے اور سوچیے کہ یہ سوال اگر آپ سے کیا ہوتا تو آپ کا کیا جواب ہوتا اگر وہ جواب ناگوار ہے تو سوال کو یا تو روک لیجئے یا انداز کو تبدیل کر لیجئے۔
پوسٹ – 2019-05-10
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد