چند سال قبل ، کراچی میں آنے والے ہیٹ سٹروک کے دوران جناح ہاسپٹل کے ایمرجنسی وارڈ میں ، لوگوں کی جاں بلبی کا چشم دید گواہ ہوں ، ان کی کسمپرسی اپنی جگہ ، لیکن کراچی کا موسم غیر فطری طور پر بڑھ جانے سے ، کراچی والوں پر رحم کی خاص رمق نہیں ابھرتی — nوجہ : یہ مصنوعی روشیوں کو فخر بنا کر بیچتے رہے ہیں ، یہ اونچی بلڈنگوں کے قبرستان کو ترقی کہہ کر سینہ پھلاتے رہے ہے ، درخت کاٹتے رہے ، سانپوں کو دودھ پلاتے رہے ، اپنا اپنا کر کے ، مئیر لے آئے ، جس نے آتے ہی اختیارات کی بیوگی اوڑھ لی ، ہمیشہ کی تھی ، انہیں پچیس تیس سال ملے ، nانیس سو اسی اور دوہزار انیس ، شہر کی سبزی کو سرمگیں کردیا ، اور اسے ریونیو انجن کا نام دے کر ، دوسروں پر گٹکے کی پیکیں مارتے رہے ، بہرحال موضوع یہاں یہ نہیں ، موضوع مندرجہ ذیل ہے ۔ nnایک خبر کے مطابق ، کراچی میں درجہ حرارت بیالیس ڈگری تک پہنچنے کا امکان ہے – اس خبر کے نیچے پاکستانیوں کے ذہنی اوقات کے مختلف مظاہرnnجی جی جب نواز شریف کی دور حکومت تھی روز بارش ہوا کرتی تھی اور عمران خان آیا تو اس نے موسم کا بھی بیٹرا غرق کر دیاnnیا اللہ پارہ اتنا گرا دے جتنا نواز شریف کو گرایا ہےnnکہہ دو کپتان کا قصور ہے پارا چڑھ رہا ہےnn Credit goes to Imran niazinn Islamabad samet khai regions mai barash hoi Karachi mai nhi hoii es ka zamadar tu imran khan nhi hai nnاس کے ساتھ ساتھ ، دعائیہ کلمات اور پودے لگانے پر بھی بات ہوئی لیکن اکثیرت کی اوقات مذکورہ جملے تھے ۔nnپاکستانیوں کی ذہنی پستی دیکھ کر ، اب تو یقین ہونے لگا ہے ، کہ قرآن میں ، بارہا بنی اسرائیل کو جو پکارا گیا ہے وہ ، انہیں لوگوں کے لیے ہے ، جن کا اوپر ذکر کیا ، جیسے ، کسی اور کو کہہ کر کسی اور کو بھی سنانا مقصود ہوتا ہے۔nnموسموں کی بڑھتی شدت اپنی جگہ ، لیکن درخت کاٹنے اور ان پر بلڈنگیں بنا کر فخر کرنے کی مکمل ذمے داری ، انہی بے غیرتوں کی ہے ، اور روحانی بے نوری کا سبب ، مذکورہ بالا ، دھرنے کی پیدائشیں ہیں ، بلکہ تمام کے تمام ، سایسی احمق ۔

اترك رد