پوسٹ – 2019-07-22

اپنی مرضی سے باہر جا کر، نیلا لال ہرا پاس پورٹ لینے کے لیے، دوسرے درجے کا شہری بن کر
پاکستان سے باہر ، شہریتیں لے کر خود وہاں کی ساری سہولیات انجوایے کر کے، ان کے رزق پہ پلتے ہوئے یہ کہتے رہنا کہ پاکستان میں رکھا ہی کیا ہے، اور جب اولاد جوان ہونے لگے تو واپسی کے لیے پردیسی رنڈی رونے ڈالتے یہ کہنا کہ اپنا کلچر اپنا کلچر ہی ہوتا ہے، اور واپس پھر ںھی نہ آنا اور اس سب کے باوجود، بجائے غیر ملکی کے، بیرون ملک پاکستانی کہلوانا ایسا ہی ہے جیسے ، سگریٹ کے ڈبے پر ، کینسر کی ڈراونی تصویریں بنوا کر، حکومتی سرپرستی میں بیچ کر کہنا کہ
تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.