کائنات کے سات آفاقی اصولوں میں سے پہلا اصولnnLaw of Mentalism nکہلاتا یےnnجس کے مطابق سب کچھ انسانی ذہن ،کی کارفرمائی ہے
یعنی ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، ہم جس چیز کا تجربہ کرتے ہیں، ہم جو چیز محسوس کرتے ہیں، ہم اس ظاہری دنیا میں جس چیز کا زیر اثر ہیں ،وہ ایک نادیدہ زہنی دائرہ کار سے وجود میں آتی ہے۔n nیہ قانون ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اس پوری کائنات کا ایک اجتماعی شعور ہے ،اس کے پیچھے اجتماعی ذہنی قوت کارفرما ہے
ایک مجموعہ احساس موجود ہے۔nnجو وقتا فوقتا ہمارے سامنے مختلف مظاہر کو ہماری سوچ کے مطابق آشکار کرتا رہتا ہے
تمام مادے، یا توانائیاں ، اس ہر جگہ موجود یا بیک وقت حاضروناظر، کائناتی دماغ، یا شعور کے ماتحت ہیں۔
یہی کائناتی شعور، وہ واحد حقیقت ہے جس سے ہمارے وجود کی تمام حقیقتیں منسلک اور موجود ہیںnnلہذا کسی انفرادی وجود کا دماغ بھی اس کائنات پر پھیلے ہوئے آفاقی شعور یا ہر جگہ موجود دماغ ،کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے
اس مجموعی شعور اور آپ کے انفرادی شعور میں فرق
فرق صرف درجے کا ہےnnاسی لئے آپ جو سوچتے ہیں وہ ہو جاتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں، اس قانون کو، گمان کی طاقت کہا جاتا ہے، جو تخریب یا تعمیر کا باعث بنتی ہے۔
پوسٹ – 2019-07-23
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد