لفظ اور لکھاری nnتخلیقی صلاحیت، انسانی فطرت کا، ایک اہم ترین جز ہوتی ہے nاور یہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس پر پشیمان ہوا جائے
اگر آپ, تخلیقی صلاحیت کے حامل ہیں, اور آپ کی تخلیقی صلاحیت، مختلف معاملات میں مختلف مظاہر لیے ہوئے ہے تو آپ کو، اس کے لئے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت قطعا نہیں۔nnتخلیقی صلاحیت سے قطع نظر، آپ نے اکثر یہ سنا ہوگا کہ، اظہار کی قوت، انسانی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی، اظہار کرو، بولو،اپنے تاثرات کو باہر لاؤ
کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ اظہار کی ایک شکل تو کسی جنگل بیابان میں جاکر چیخیں مارنا بھی؟ہم اسے سنجیدگی اور اور متانت کے پیرائے میں کب سمجھیں گے، کہ اگر اظہار کا اتنا ہی شوق ہے تو ہم اس اظہار کو ،انتہائی لطافت اور سنجیدگی کے ساتھ کسی کے سامنے پیش کیوں نہیں کرسکتے
مثلا کسی پڑھنے والے کے سامنے ، سسپینس کی صورت میں، کسی دلچسپ مضمون کی صورت میں، کسی مزیدار کہانی کی صورت میںn اظہار اس طرح بھی تو کیا جا سکتا ہے؟
لیکن کیا اس میں انا آڑے آتی ہے یا تساہل پسندی ؟nnاچھا ایک بات اور سمجھ لیجئے یے اگر آپ لکھاری یا بننا چاہتے ہیں، تو آپ کے پاس اظہار کے لوازمات انتہائی محدود ہیں۔nnمثلا چند کاغذ ،پینسل، اور کچھ خیالات۔
آپ کے پاس کوئی ویڈیو نہیں، آپ کے پاس کوئی فلم نہیں م،آپ کے پاس کوئی آواز نہیں آپ کے پاس رنگ برنگے چمکیلےکمپیوٹر ایفیکٹ نہیں۔nn اگر ہیں تو کچھ الفاظ، ا کچھ کاغذ، پنسل،
بس اسی لیے لکھاری کے طور پر آپ کے تخلیقی لوازمات انتہائی محدود ہیںnnاور آپ کو انہیں ہتھیاروں،لوازمات یا اجزائے ترکیبی کا استعمال کرکے
ایک کہانی ایک ناول، ایک کتاب تخلیق کرنی پڑے گی nایک بات اور سمجھ لیجئے کاغذ پر بکھرے الفاظ ساکت ہوتے ہیں
یہ حرکت نہیں کر سکتےnnبالکل اسی طرح جس طرح کسی موسیقی کی دھن میں توقف کےچندبلیک نوٹس۔
وہ بھی ساکت و جامد ہوتے ہیں جب تک موسیقی کی دھن بجائی نہ جائے، یا اگر الفاظ کے تناظر میں کہا جائے تو الفاظ بھی کاغذ پر اسی طرح ساکت ہوتے ہیں جب تک آپ کا قاری ان کو پڑھنا شروع کرےnnاور پھر کاغذ پر بکھرے ان الفاظ کو قاری، جیسے ہی پڑھنا شروع کرتا ہے۔
یہ الفاظ، آواز بنتے ہیں، خیالات کی نمائندگی کرنے والے سفیر بنتے ہیں ،یہ خوشبو بنتے ہیں، یہ اشکال بنتے ہیں ،یہ مناظر بنتے ہیں، احساسات بنتے ہیں یہ افراد بنتے ہیں۔ یہ کسی کی گہری بھنویں بنتے ہیں، تو کسی کے بھرے ہونٹ، یا کسی کی کھال کا ذائقہ یا پھر سانسوں کی مہکار۔ پھر یہ الفاظ، الفاظ نہیں رہتے۔ یہ سانس لیتے وجود بن جاتے ہیں۔
پوسٹ – 2019-07-25
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد