سوال کرنے کی بیماری ، کمسنی کی وبا بن چکی ہے ، اس کا حل یہ ہے کہnnڈھٹائی ، کمسنی ، سینگ اڑانا ، یہ سب علامات ، اگر بدرجہ اتم ہوںnnاور سوال کی ہمت بھی ہو یعنی ، ڈھٹائی اور سوال بھی غیر متعلق، اور روٹین کی حد تک احمقانہ ہو ،nnتو جذام نما اس کمسن سوالی سے بس یہ بات پوچھئےnnجواب ، طویل چاہئے یا مختصر ؟nnاس کے جواب میں اگر وہ کہے مختصرnnتو کہیں ، اس جواب سے سوال ایکسٹریٹ نہ کرنا ، تب ملے گاnnاور پھر جواب ایسا دیں ، کہ دم پر ناچتا پھرےnnاگر کہے طویلnnتو کہیں ، ٹھیک ہے ، بیچ میں ، کمسنی ، اور امپلسو انگلیوں کو سنبھال کر چپ چاپ سننا ، مداخلت ، چونکہ ، اگر مگر ، بکواس کی توپھر جو چار حرف پڑیں گے ، وہ تمھارا کوڑھ ٹھیک کریں یا نہ کریں ، دماغ بہرحال ٹھیک کردیں گے ۔nnاور پھر ، مفصل جواب دیں ، جس میں ، ممکنہ ہر ہر خارش کو کور کیا گیا ہوnnتیسرا طریقہ ،nnسوالی جذامی کو لسٹ سے باہر کردیں یا بلاک کردیںnnیاپ پھر ، خاموشی سے کمنٹ ڈیلیٹ کردیںnnیہ شاپر نما ، بے چارے ، آپ کی ذمے داری نہیں سو ان کا لوڈ مت لیں
یہ انسان نہیں ، بڑھتی آبادی اور گھٹتی کامن سینس کے شاخسانے ہیں nجن پر کمسنی اور بدتمیزی جو کہ لازم و ملزوم ہیں، کا تڑکہ لگا ہوا ہے ۔
پوسٹ – 2019-07-30
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد