زانی یحی خان شراب پی کر سرکاری تقریبات میں کھلے مں الٹیاں کرتا تھا۔nnمیں ان کالے بنگالیوں کی نسل بدل دوں گا والا جملہ بھی اسی کے کسی کن ٹٹے کا تھا۔n کر مشرف رانی مکرجی کو پسند کرتا تھا
کتے ہاتھ میں لے کر شراب پیتے ہوئے، بیوی کے ساتھ
محافل رچاتا تھا
اس کے دور کا چئیر مین ایف بی آر عبداللہ ہوسف شراب کا جام سر پہ رکھ کر ناچتا تھاnnکون سے آئین کی بات کرتے ہو ؟
یہ جملہ ضیا الحق سے منسوب کیا جاتا ہے۔ پہلے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر بین اور پھر شاہد عزیز کی کتابnnایم کیو ایم کو بنانے میں مریم نواز کا ہاتھ نہیں تھا
اور فوجداری مقدمات والا عشرت العباد بھی کسی نے باہر سے نافذ نہیں کیا تھا
فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کی پاداش میں کراچی کے اردو سپیکنگز کی بجوانے والا بھی ایوب خان کا بیٹا تھا
یہ خاموشی کہاں تک پہ پابندی
زانی شرابی کو سلیکٹ کر کے کشمیر بیچںے والا بھی کوئی حاصل بزنجو نہیںnnراو انوار کو آزاد رکھنے میں ہاتھ بھی نواز یا بلاول کا نہیں۔ nیہ کام کرنے والا کوئی زرداری نواز نہیں
اور آج یہ بوٹ پالشیے ، ہمیں قانون پڑھاتے ہیں nnکیا پیشاب زندگیاں ہیں ان زید حامد جیسے مقدس گائے کا پیشاب پینے والوں کی۔nnبات سیدھی مقدس تم نہیں ، مقدس وہ لہو ہے جو کسی غریب کے بچے کا گرتا ہے۔ nکبھی تم اسے دہشت گرد بناتے ہو
کبھی تمغہ پہناتے ہو۔
سو ہمیں مطالعہ پاکستان کی افیون نہ چٹاو۔
پوسٹ – 2019-08-11
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد