پوسٹ – 2019-08-28

اگر آپ کو ، غیر حقیقی بھوسی ٹکڑے والے ، ٹی وی دیکھ کر بھی ، یہ نہیں سمجھ آتا کہ ، پاکستان ،ہر دور میں ، نازک دور سے کیوں گزرتا رہاہے تو ، تین من والے یوگ کا انتظار کریں -nnشکر ہے ، اپنے کو جوانی میں ، اصل ہیرو ، اصل ولن کی پہچان آگئی nبھئی ، بات کو سمجھیں nادارے کمپنیاں ہیں nنظریے پراڈکٹ، nمارکٹ میں انٹرنیشنل ڈیمانڈ ، ابھی چوتیا حکمرانوں کی ہے ، کیوں اکثر و بیشتر ، عوام ، پوری دنیا کے چوتیا ہی ہوتے ہیں – وہی بات کہ ہجوم ہوتے ہیں دماغ نہیں -nاس میں کچھ غلط بھی نہیں ، nکہ بائے ڈیزائن ، nہجوم ، حماقت کا ایک استعارہ ہی ہوتا ہے ، تبھی تو ٹرک کے پیچھے کتے کی طرح بھاگتے ہیں – nخیر
اب بات یہ ہے کہ آج کل ، چوتیا حکمرانوں کا دور ہے ، nتو ہر جگہ ، چوتئیے نظریات اور چوتئیے حکمران نظر آئیں گے nوجہ ؟
ایک عرصے تک nایک اور طرح کے چوتئیاپے کے حکمرانوں کو لا کر ان کا چورن بیچا گیا
کیوں کہ اس وقت ضرورت وہی تھی nپوری دنیاں میں nدیکھ لیں nہر جگہ چوتیا ہی ملتے تھے ، جبہ ودستار والے ہوں یا کوٹ پینٹ والے ، چل مکمل مذہبی چول رہے ہوتے تھے nاور اب وہ چوتیاپا اتنا ہوگیا کہ اسے کاونٹر کرنے کے لیے nایسے چوتیے لانا پڑے کہ جو ان چوتیوں سے ایک سو اسی کے زاوئے کے چوتئے تھے ۔
اب سوچیں فائدہ کس کا ہوا n:) nnکمپنی کون ؟n نظریہ کس کا
کاروبار کس کا پھلا پھولا
اور نقصان کس کا
اور عوام کا مائنڈ سیٹ کیاn:) nدیکھتے جائے ابھی آگے آگے nچوتیوں سے چھٹکارا ملنے کے بعد ، ایک خاص طرح کے چوتئیے انڈر پروسیس ہیں nn”ماڈریٹ لوڑو”nnیہ بیس بیس پچیس پچیس سال کے پراجیکٹ ہوتے ہیں nتاکہ ، ایک نسل بھول جائے ، nدوسری نسل کو پتا نہ ہو
اور بیچ والی کو مار دوn:)

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.