پوسٹ – 6nnصحت مند،خوش باش اور کامیاب افراد کی طرح جینے کے لیے ، چند نکاتnnکامیابی کو معاشرتی پیمانوں پہ جانچنا ، ایک ایسی بھیڑ چال ہے، جس میں ،ہر وقت ، کوئی نہ کوئی آپ سے آگے ہی ہوگا،اور اس ریس میں اگے نکلنے کے لیے،اپ کے پاس ، کبھی بھی سب کچھ کرنے کا وقت میسر نہیں ہوگا۔ تو کیوں توانائی کا ضیاع کرنا ؟
اور ویسےبھی، جب دو افراد سوچ کے لحاظ سے ایک سے نہیں ، تو پھر ایک کی مرضی/خوشی دوسرے کی کامیاںی /اطمینان کا تعین کیسےکر سکتی ہے ؟nnلوگوں کو خوش کرنا چھوڑئیے، خود کو ترجیح دیجئے۔nnہمیں اپنی خوشی اطمینان خود طے کرنا ہوگا، ورنہ معاشرہ کرے گا۔ اس صورت میں ہم، چاہ اور آہ کے گرداب میں پھنسے رہیں گے۔nnموازنے اور مقابلے کے درمیان خود کو پھنسائے رکھیں گے۔nnآپ کراچی کی سڑکوں پر بہتےنفسیاتی مریض ٹریفک میں، منزل اور رستہ خود منتخب کرتے ہیں؟ یا ہارن بجانے والوں / ریس لگانے والوں کے ساتھ ریس لگا لگا کر،اپنی منزل۔کا سراغ کھو کر ، کتے بلوں کی طرح ، سگنل اور چوک چوراہوں پر لڑتے ہیں ؟nnیقینا نفسیاتیو ں کے اس ہجوم سے ،سب سے دامن بچا کر،اپنی منزل۔پہ پہنچنا چاہتے ہیں بغیر کسی ریس کا حصہ بنے۔nnبس زندگی بھی ایسی ہی ہے۔nnپیسے کے معاملےمیں، اپنے محسوسات، سوچ اور عمل بدل ڈالئے۔nnکوئی انویسٹر ، آپ کو دریافت کر کے، پال پوس کر امیر نہیں کرے گا، آپ کو خود کو خود تعمیر کرنا ہوگا۔nnلوگوں / انڈسٹری کے مسائل کا حل بن جائے، ناگزیر نہ سہی، مہنگے بن جائے، اپنی انا سے نہیں، محنت اور صلاحیت سےnnسرمایہ کاری ان انڈسٹریز پر کیجئے، جہاں کی آپ کو سوجھ بوجھ ہو،جہاں کی سمجھ نہ ہو، وہاں سرمایہ کاری مت کیجیے۔
اپنی کامیابی کا انحصار ، صرف خودپہ کیجیئے ،کوئ شخص کتنا بھی پرخلوص ہو، وہ آپ سے زیادہ آپ کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔
پوسٹ – 2019-08-29
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد