اپن کدھر تھا معلوم نیئں
اپن کو بس، گان_ مارنی یے nnماں _دائے،تاریخ،ماں _دائے فرقے بازی، ماں _دائے پارٹی بازی
ماں _دائے یہ سب رن_یاپا جو, سال میں کسی نہ کسی دن، ہر مسلک والا, بھونس_ی والا، اپنی ماں _دائیوں کو، مذہب کا نام دے کر سڑکوں پہ کرتا ہے۔
ان بہن کے _سوں کو، ایک نہیں، سب کو کہتا ہوںnnاپنے کو جب جب رستہ بلاک ملے گا، کوئی مسلک ہو ، کوئی فرقہ ہو , ، کوئ پارٹی ہو , اپن ایسے ہی ڈیش لگا لگا کر ان فل ان ڈیش بھرے گا۔ تین _ن والا یوگ دے گا ان کو۔nnبہن کے لو_ے ، سال کے بارہ میں سے تیرہ مہینے ، سڑکوں پہ رن_ی رونے کرنے والے۔
کوئی عقیدت میں کر رہا ہے، کوئی ٹسل میں کر رہا یے، کوئی عبادت کے انداز میں کر رہا ہے، کوئی، غلاظت میں، کوئی قساوت میں کوئی شقاوت میں۔nnجو کرنا ہے کرو بہن کے لو_وں nکوئی مسئلہ نہیں تم لوگوں کے عقائد اور فرقے بازیوں سے
وہ نہ اپن کا مسئلہ ہے، نہ اپن اس چکر میں پڑتا ہے، اپن کا مسئلہ ہے، بلاک رستے، کنٹینیر، ٹریفک جام nمذہب کے نام پہ تم لوگوں کا، خلقت کو، عوام کو تکلیف پہنچانا،اور عوام بھی جائے تیل لینے،
اپن بس اپنی بات کرتا ہے۔ کہ nجس جس وقت بھی ،جس جس دن بھی جس جس مکتبہ فکر(فکر پر زبر ہے) ںے رستہ جام کیا ،nnاور اپن خود ٹریفک جام میں پھنسا تم سب کن_روں کی وجہ سے تو،n اس بہن کے _ن کو ایسے ہی گالیاں پڑیں گی ۔۔nnپاڑ لو میرا ٹڈn nnپ_ی یون دے ، _وتئے کے پٹھے سب کے سب۔
اوپر سے لے کر نیچے تک مادر _ود سارے۔nnبقلم ، سید زوہیب گائے تنڈے
پوسٹ – 2019-09-04
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد