اصل میں، احمقوں اور کچے دماغوں کی، ایک پوری نسل کو بیک اپ کے طور پر تیار رکھنا ، نظریہ ضرورت کا
ایک اہم جز ہے،
اور یہ کام ہر وقت چل رہا ہوتا ہے۔
کبھی صنعتی انقلاب کے نام پر
جبھی امار دیش سنار دیش کےنام پہ
کبھی اسلامی نظام کے نام پہ
کبھی کشکول توڑ دو کے نام پہ
کبھی وی سی آر بیچ کر بندوقیں خریدنے کے نام پہ nکبھی روشن خیالی اور
کبھی تبدیلی کے نام پہ۔nnیہ بنیادی طور پر، نامرد معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے، nکہ ہمہ وقت، چو_یوں کی ایک پوری کی پوری لاٹ تیار بیٹھی ریے۔
جو ، نظام کو چلتے رہنے میں مدد کرے اور ، جب سسٹم بگڑنے لگے تو چابک کے طور پر nمعاشرے کو رسید کرنے کے بھی کام آئے۔
لیکن اسے کسی ٹھیک ڈگر پر نہ چلنے دے۔n nnمثلا انقلاب کے انجکشن لگانے والوں نے آج تک کتنے نوجوانوں کی تربیت کی کہ، کم ازکم، گھر میں، اپنے والد کے سامنے بیٹھ کر اپنے جائز اور شرعی ، جسمانی ، مالی حقوق کو واشگاف انداز میں بیان کرو۔nnدی کسی نے ؟nnبس یہی بات ہے کہ اصل مقصد سے ہٹا دو، اور nاس کا مکمل ذمہ دار وہی طبقہ ہوتا ہے ، جس کا سب سے زیادہ حصہ ہو، کاروبار ہو، اور سسٹم بیٹھنے کی صورت میں اس کا نقصان بھی سب سے زیادہ ہو۔
سیدھی سی بات ہے، لوگ مرنا چھوڑ دیں تو گورکن کہاں سے کھائے ؟
دہشت گردی ختم ہوجایے تو اسلحے کا کاروبار کرنے والے کدھر جائیں گے۔
پوسٹ – 2019-09-28
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد