حساس/ ذہنی طور پر تباہ شدہ کردار کیسے لکھے جاتے ہیں ؟nnیہ چند خصوصیات، ایسے کرداروں میں مشترکہ ہوتی ہیں۔nnیہ لوگ اپنے المیہ/غم کو لے کر کبھی بھی کھلنا یا شئیر کرنا نہیں چاہتے، چاہےانہیں برین ٹیومر ہوجائے۔nnایسا کردار لکھتے وقت ، اسے ایک مخصوص عادت بخش دیں، nیعنی جیسے وہ کسی سوچ میں گم ہوں یا کوئی ان کا تذکرہ کرے وہ درج ذیل حرکات میں سے کوئی ایک کرنے لگیں n۔
جیسے بات کرتے ہوئے ناخن / پنسل چباناn اپنے بازوں پر اپنی ہی انگلیوں سے ، خیالی تحاریر لکھنا۔
بات بے بات ہونٹوں کو چباناnnہر کردار کے المیے کو مختلف رکھیں،حقیقی زندگی میں آس پاس نظر دہرائیں بہت سے بین ڈالنے والے، رنڈی رونے کرنے والے، زودرنج کم نسل اور ناشکرے نظر آئیں گے، ان جیس مخلوقات کو کردار میں فٹ کرلیں۔
۔nnاپنے کردار وں کو ایک مخصوص فوبیا یا خوف دیں۔nnکوئی ایک ٹریگر پوائنٹ جس سے وہ غصے میں آجائیںnnان کے ماضی یا ذات میں کوئی تکلیف دہ یا بھیانک راز / کمزوری چھپا دیں۔nnاضطراب کا استعمال کیجیے۔nnغلطیوں سے نا سیکھنے کی عادت ڈلوائیں۔nnزودرنجی اور خود ترسی کوٹ کوٹ کر بھر دیں۔nnدوبارہ غلطی کرنے کے لیے ‘سوری آئندہ نہیں ہوگا ‘ جیسے جملوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال۔nnلائف اسٹائل ،کھانا پینا، نیند، اس سب میں بدپرہیزی کا شکار دکھائیں۔nnجذبات کے وقت منطق، منطق کے وقت جذبات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی غلیظ اور کم ظرف عادت کا شکار۔nnاس سب سے ہٹ کر آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ nn پاکستانی معاشرے ، خصوصا کراچی میں رہتے ہوئے، المیہ نگاری آسان ترین کام ہے، ایک چکر صبح ، اور شام، صدر کا لگا لیں، ایک سے ایک نفسیاتی مریض پیدل/گاڑی/ بائک پہ سوار ملے گا۔
اسی کو آبزرو کر کے لکھ دیں
پوسٹ – 2019-09-30
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد