خودکار انداز میں نہ سہی لیکن صیاد آپ اپنی مرضی سے اگر دام میں آنے کو تیار ہو،اور اسے کوئی قید کرنے والا نہ ہو ، اس کےاپنے بنائے ہوئے پنجرے کی سلاخیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہوںn آزادی کی ہوائیں اس کا چہرہ سہلا رہی ہو
وہ جب چاہے ہے ایک زقند میں، پنجرے سے نکل کر کر آزاد فضاؤں میں سانس لے سکتا ہوں۔nnلیکن اس خواہش کا کیا، جو اسے اپنے ہی پنجرے میں رہنے پر مجبور کرتی رہے،اسے مائل کرتی ہو ،کہ وہ اپنے شکار کا کا مکمل لگاوٹ کے ساتھ ساتھ حسرت و یاس سے لتھڑا ہوا انتظار قطرہ قطرہ چوستا رہے۔nnمعلوم ہے ایسا کب ہوتا ہے ؟
جب شکار ، صیاد کو عدم موجودگی کا احساس بخش دے پر اسے ہستی سے وجود کردے، اس کی نگاہ کو نظر اور اس کے سچ کو حقیقت کردے۔nnاور پھر شکار صیاد پہ یہ سرگوشی تھوکےnnچل بھونسی ٹکڑے کے، لو * ا لے ماموں کا۔۔
پوسٹ – 2019-10-10
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد