وہ روزانہ اس کی ٹھوکروں میں جیتا تھا
آتے جاتے وہ اسے کبھی شرارتا ، کبھی غصے میں اسے ٹھوکروں پہ رکھ لیا کرتی تھی
وہ یہی سوچا کرتا کہ
کھوتا میں آں، لتاں اے ماردی اے۔
کچھ کہنا تھا شاید سے
جانے کیوں اس سے اڑتی تھی
تلملا کے چرچڑا کے جب وہ اس کے پاس سے گزرا کرتی
تو وہ اس سے یہی پوچھا کرتاnnتم مرا نام کیوں نہیں لیتں
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیںnnاور وہ اس کی نظروں میں یہ سوال پڑھ کر مسکراتے ہوئے ایک ہی جملہ کہتیnnایک ہی کھوتا ہے جہاں میں کیا ؟
پوسٹ – 2019-10-18
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد