“لوگ کیا کہیں گے ” سے بہتر ۔۔ ماں کی آنکھ سوسائٹی کی ہے۔ کیوں کہ پھر لوگوں کے کچھ کہنے کی نوبت ہی نہیں آتی ۔۔ ویسے لوگوں کے پاس کہنے کا ٹائم کم ہی ہوتا ہے کیوں کہ وہ لوگ بھی یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے ۔۔ اسی لیے سرجھکاو اور ہاتھ چلاو۔۔ سوسائٹی کو صابن سے زیادہ اہمیت دو گے تو خود گھل جاو گے

اترك رد