پوسٹ – 2019-11-14

عورتیں ننگی گھومیں ، سانوں کی nمرد اسے گھورے ، توانوں کی nمیرا جسم میری مرضیہ – اوکے nمیری نظر میری مرضی نو وے nnسب کچھ اوپن کردو، مردوں کو شہتوت انگیز کردو۔
ٹی وی ، نیٹ ، سنیما ، ہر جگہ سب کچھ دیکھنے کی آزادی ہے ، nاداکارائں ، گانے کریں اداروں کے نام لے کر
اور کسی کو تمغہ ملے nکوئی امبسیڈر بنے nمناظر سے ، مرد ، مشت زن ہو کر خصی ہوجائیں nتو پھر شادی کے بعد جو نصیب ہو nاس کو جسم کے عوض اپنا آپ سونپ کر ، اسے سچی محبت گردانیں اور دوسری کی طرف توجہ نہ کریں nاور کریں تو ہراسمنٹ
اور پھر عورت سے مار کھائیں تو ہیجڑے
عورت پرہاتھ اٹھائیں تو جابر
اوپر سےلیکر نیچے تک ، یہ معاشرہ ، عورت کی رانوں سے سوچتا ہے nاور فیصلے قانون سازیاں بھی ایسے ہی ہوتے ہیں nجن ریاستوں کے سربراہ بے غیرت ہوں ، ان کے عوام میں یہ سب پھیل جائے تو کوئی بعید نہیں nایشو پھر یہ بنتا ہے کہ ، کسی نے ہراساں کیوں کر دیا۔
زانی شرابی جواری ، سے تو آغاز کیا nکوئی ایک پاکیزہ رہاک؟
نہیں nلیکن عوام کرے تو اس پر کیس
سچ ہے قانون محض مجرم کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے ۔nnورنہ
ایسی ایسی ، فیمینزم کی دلدادہ کو ، توجہ کا بھوکا دیکھا ہے ، کہ کیا کہوں ۔
بڑی ٹھسے دار خواتین ، بڑی ، اینٹی مرد، بڑی فیمینزم کی پرچار، ایک سے ایک ، حاکم مزاج ، توجہ کی طالب نفسیاتی مریضہ ، nسمجھ آجاتا ہے کہ ریاست کا دماغ کہاں پنپ رہا ہے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.