#5nnپانچویں قسطnnماڈرن سائیکالوجی یعنی جدید نفسیات کے مطابق۔
کامن سینس ، بذات خود ، کوئی ، سینس یعنی حس ہی نہیں –nکیسے ؟
اگر ہم ، کامن سینس کی تعریف کا جائزہ لیں تو ،
ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ، کامن سینس، مختصرا ،n”درست فیصلہ” لینے کی اہلیت /حس کو کہتے ہیں ۔
لیکن ، عام طورپر، کوئی بھی فیصلہ ؟ کیسے لیا جاتا ہے ؟ کچھ تجربات کی بنا پر ؟ ٹھیک ؟
اب یہ بتائیے کہ ،محض کسی شخص کا ، کوئی بھی ایک تجربہ ، کسی بھی معاملے میں ، حقائق/انفارمیشن کا وہ مکمل سیٹ فراہم کرسکتا ہے جو ، ایک درست،مناسب ، قابل اعتبار، اور بہتر نتیجہ ، اخذ کر کے ، کوئی ایک مخصوص فیصلہ لینے کے لیے ، استعمال کیا جاتا ہو ؟
اگر نہیں ، توکیا ، کامن سینس، لغوی ، معنوی اور اصطلاحی ، ہرلحاظ سے ،خود میں ، ایک تضاد نہیں ؟
کیوں کہ ، حقیقی معنوں میں ، کسی بھی قسم کی کوئی بھی ایسی ، حس، جس سے ، فیصلہ لینے ، یا سمجھ بوجھ کا استعمال کرکے ، کوئی نتیجہ اخذ کرنے میں مدد لی جاسکے ، وہ محض ایک تجربے یا چند تجربات سے ، ماخوذ نہیں ہوسکتی
وجہ ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ۔
ہر کسی کاتجربہ ، الگ ہوتا ہے ، اور محدود بھی ۔
پھر کامن سینس آخر ہے کیا ؟
اور ہماری اذہان ، میں ، اس کا کانسیپٹ /خیال ، کیسے ظہورپذیر ہوا؟n nکامن سینس ، ماڈرن سائیکالوجی کے مطابق، ایک ، گمراہ کن نظریہ /سوچ کا دھاراہے ، جو کہ ، نظریاتی کلچر/رہن سن کی دین ہے ۔
نظریاتی کلچریعنی نظریاتی طورپر زندگی کا رہن سہن کیا ہوتا ہے ؟n کوئی بھی ایسا رہن سہن ، معاشرہ، نظام ، جس میں کوئی ایک مخصوص نظریہ ، اجتماعیت کو ، کیسے سوچنا، کیا کرنا ہے ، کی تعلیم دے ، نظریاتی کلچر کہلاتا ہے ۔
صم بکم ، بے شعور نظریات ، جن کی بظاہر، کوئی جڑنظر نہیں آتی ، سوائے اس کے کہ ، وہ چند اشخاص صدیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں ، اور اب وہ ہم نے بھی کرنا ہے۔
تو ایسے نظریاتی کلچر میں ، یہ ضروری ہوتا ہے ، کہ وجود کو ہستی ، نظر کونگاہ ، اور ہجوم کو اجتماعیت بننے سے روکا جائے ، ایسا کلچر، یہ کوشش کرتاہے کہ
لوگ، احمق، کم علم ، ناقص العقل ہونے کے ساتھ ساتھ ، گمراہ کن معلومات سے لتھڑے ہوئے اور قوت فیصلہ کے لحاظ سے بھی ، کمزور ترین ہوتے چلے جائیں ۔n نظریاتی کلچر ہر قوم اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا نظریہ جو یہ چاہتا ہے کہ وہ ہمیں بتائے کہ ہمیں کیا سوچنا چاہیے اور کیا کرنا چاہیےn حتی کہ ، nکامن سینس کو کبھی کبھار، بہت سے شدت پسند یا محدودنظریات کے حامل افراد نفسیاتی ہتھیار کے طور پہ بھی استعمال کرتے ہیں ، وہ ایسے کہ ایسے لوگ یا گروہ ہمیں یہ باور کراتے رہے ہیں کہ کامن سینس، صرف عام افرا د میں ہی وافر ہے ، اوپری سطرح )کسی بھی لحاظ سے( کے افراد میں یہ موجود نہیں ہوتی۔جس کی وجہ سے ، ایسے افراد، خواص میں سے ہوجاتے ہیں اور پھر وہ عام افراد جن میں کامن سینس کی بہتات ہوتی ہے، کی موجودگی اپنے اطراف برداشت نہیں کرتے ۔اور ان سے قطع تعلق کرلیتے ہیں ۔n اب چونکہ، اس لفظ ، کامن سینس میں ہی ، عمومی سمجھ بوجھ ، معونیت کے لحاظ سے ، موجود ہے ، یعنی وہ عام سوجھ بوجھ جو عام یعنی بہت سے افراد میں موجود ہو۔n لیکن پھرایسا کیوں ہوتا ہے کہ ، عرصہ دراز پہلے ، بہت سے عام افراد مل کر، ایک عام سمجھ بوجھ یا تجربات ، کی بنیاد پر ، ایک فیصلہ لے لیتے ہیں ، جو کچھ وقت تک لاگو بھی رہتا ہے ، پر ، وقت ، بار بار اس کامن سینس کا استعمال کر کے ، لیے گئے فیصلے ،کو غلط ثابت کرتا رہتا ہے ، تاریخ ایسی مثالوں/کرداروں سے بھری پڑی ہے
اس کے علاوہ ، ایسے بہت سے لوگ ، جن پر یہ لیبل لگتا ہے کہ ، ان میں کامن سینس موجود نہیں ۔وہ اکثر وہی ہوتے ہیں ، جو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ، کامن سینس، نہ ہی کامن ہے ، اور نہ ہی کوئی باقاعدہ ، سینس یعنی حس۔n پھر وہ افراد جو کامن سینس ہونے کا دعوی رکھتے ہیں ، یا جن کو اکثر افراد یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ، ان میں کامن سینس موجود ہے ، یہ عام سوجھ بوجھ سے مالا مال ہیں ۔
ایسے افراد اکثر اوقات۔
حقیقی معلومات/علم سے عاری ہوتے ہیں ۔
تجربہ /مہارت انہیں چھو کر نہیں گزری ہوتی ، یا بہت کم ہوتی ہے۔
براہ راست، اس مخصوص معاملے کا ان سے کوئی تعلق یا ان کا کوئی انٹرایکشن نہیں ہوتی ، جس پر یہ کامن سینس کا دعوی کر کے ، اپنی سمجھ بوجھ لاد رہے ہوتے ہیں
ایسے افراد، کیسے کوئی نتیجہ اخذ کر کے، کوئی فیصلہ دے سکتے ہیں ؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے نام/تعریف کے برعکس ، یہ نام نہاد کامن سینس، اچھے ، مناسب اور بہتر فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ ہے ؟ اور ہمارا اس پر اعتبار کرنا، غلط ہے
شاید، کامن سینس ، ہمارے محدود مشاہدات، یا تجربات ، کی وجہ سے ، تخلیق کیا گیا ایک سراب ہے nآپ کیا کہتےہیں ؟
پوسٹ – 2019-12-01
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد