اگر کوئی شخص آٹھ گھنٹے کی نوکری کرتا ہو تو اس کو کتنا وقت ملے گا سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے ، اور اگر وہ گھر پہنچنے کے بعد ساس بہو کے جھگڑوں یا رشتے داروں کے منافقت بھرے خلوص سے دامن بچا کر، کر فیس بک وغیرہ استعمال کرے تو اس میں یہ تنقید کہاں سے آ گئی کہ سوشل میڈیا ٹیکنالوجی ہمارے دلوں کو دور اور ڈیوائیسز کو قریب کر رہی ہیں ۔ عجیب لوگ ہیں یہ ۔۔ یہ چاہتے ہیں کہ بندہ کمپیوٹر اور موبائل بند کرکے بک بک کرتا رہے ، غیبت کرے جھگڑے کرے ، وغیرہ وغیرہ وہ صحیح ہے لیکن اگر وہ یہ سب نہیں کرتا اور صرف فیس بک یا موبائل زیادہ استعمال کرتا ہے تو ٹیکنالوجی غلط اور نقصان دہ ۔ دل میں خلوص رکھتے ہوئے انسانوں سے دورہونا بہتر ہے یا دل میں بغض رکھتے ہوئے سو کالڈ رشتے داریاں نبھانا ؟ یعنی اوپر ہی اوپر تالیاں اندر ہی اندر گالیاں۔بھائی اتنا پرابلم ہے اگر جدید دور سے تو جنگلوں میں نکل جاواور پتھر کے دور میں پہنچ جاو۔ ایسے لوگ نہ خود خوش رہتے ہیں نہ کسی اور کو خوش رہنے دیتے ہیں ۔سوشل میڈیامفت کا ہے نا اس لیے اندھا دھند استعمال بھی کرنا ہے اور اس ٹیکنالوجی کے خلاف ابو جہلیت کا اظہار بھی کرنا ہےبلکہ دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو یہ سوشل میڈیا لوگوں کو قریب لانے کا باعث بنتا ہے لوگ اپنے گھروں میں ہونے والی تقریبات کے دعوت نامے دور دور تک ایونٹ بنا کر بھیج دیتے ہیں جو شریک نہ ہو سکے وہ ویڈیو کال کر لیتاہے ۔ کئی مشاہدات ایسے ہوئے ہیں کہ جب فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے پندرہ پندرہ سال بعد اپنی اسکول لائف کے دوستوں تک سے ملاقات ہوگئی ، ہاں یہ بات درست ہے کہ ٹیکنالوجی کا ٖغلط استعمال بھی ہو رہا ہے تو اس کا حل کیا ہے ؟ اندر کی صفائی یا سوشل میڈیا کی دھلائی ۔ ؟ ہنہ منافق لوگ.nn زوہیب اکرم

اترك رد