پوسٹ – 2015-05-09

وائٹ کالر منافقینnnتخلیق چاہے آرٹ میں ہویا ادب میں ، یا کسی بھی ہنر اور فن میں اس کے لیے ضروری ہے کہ ذہن کو زمان و مکان کی قید سے آزاد چھوڑ دیا جائے ۔لیکن ہمارے کارپوریٹ کلچر میں اکثرپرفیکشنسٹ نوعہدیئے [جنھیں نیا نیا عہدہ ملا ہو]ٹائپ افسران اور ان کے کاسہ لیس سینئر ٹیم ممبران ایسے ہیں جو اپنے جونئیرز سے یہ چاہتے ہیں کہ پہلی ہم بستری کے بعد حمل ٹھر جائے ، اور ڈلیوری نومہینے کے بجائے نو دن میں ہو جائے اور زچہ بچہ بھی صحت مندرہیں ، سیزرین بھی نہ کرنا پڑے اور تو اور وہ تخلیق، پروجیکٹ یا وہ بچہ ، بڑا ہو کر سپر مین بن جائے ۔مطلب ایک گھنٹے کی ڈیڈ لائن میں ان کو تخلیقیت بھی چاہئے اور کچھ نیا بھی اور اس کے ساتھ ڈیڈلائن بھی تھما دی جاتی ہے ، مطلب ذہن کو پابند کرلیا جائے کہ وہ نو سے پانچ کے دوران کم از کم ایک گھنٹہ صرف کچھ نیا تخلیق کرنے پر لگائے اور کام مکمل کرے جو ظاہر ہے ممکن نہیں کیوں کہ تخلیق وقت کی محتاج نہیں ہوتی اور اگر ڈیڈلائن پر پورا اترا جائے تو کوالٹی پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا لیکن نہیں ، ہم تو چپڑی چاہتےہیں وہ بھِی دو دو ۔ نتیجہ جونئیر ملازمین کے جبری استعفے یا نوکری سے نکالے جانے پر نکلتا ہے ۔ کیوں کہ دوسروں کو دبا کر یا دوسروں کی بجا کر بڑے عہدے حاصل کرنا، سیاست کے داو پیچ کھیلنا کسی تخلیق کار کی شان نہیں ہوتی۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ ایسے افراد ہمیشہ آپ کو “innovation ” پر لیکچر دیتے نظر آئیں گے ۔ گاجر اور چھڑی کے اس کھیل میں ان سے بحث کرنا باقاعد ہ کفر سمجھا جاتا ہے کیوں ؟ کیوں کہ جو فرعون کو سجدہ نہیں کرتا وہ یا تو جان سے جاتا ہے یا ہاتھ پاوں تڑواتاہے ۔ پھر کہتے ہیں گورا ہم سے آگے ہے nn-زوہیب اکرم

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.