بڑے باپ کی اولادnnمجھے اس دن پتا چلا کہ ہماری اس معاشرے میں حیثیت کیا ہے کس وجہ سے ہے اور اس کے ذمے دار کون ہیں۔ nیہ قریب رمضان کی بات ہے ، آخری عشرہ تھا میں میں ۹سی نامی میٹرو بس سے اترا اور گھر کی طرف چل پڑا ابھی سٹی گورنمنٹ پارکنگ پلازہ سے کچھ دورہی تھا کہ ایک شور سا بلند ہوا اورگالیوں کا فوارہ بھی ساتھہ ہی ایک جیپ والا اورموٹر بائک والا آپس میں ایک دوسرے سے لفظی جنگ کرتے نظر آئے، قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے کی باحیاخواتین کو چوک چوراہےمیں گھسیٹنے کے بعد اپنی مردانگی کو للکارتے ہوئے آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ،ایک شخص نے ان دونوں کو الگ کردیا لیکن ان دونوں کا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہ ہوا تھا شاید افطاری تک لڑتے رہتے لوگوں نے روزے /رسول کا واسطہ دیا قصہ کہانی ختم ہونے کو تھااور قصہ گو گھر جانے کے لیے،کمر بستہ تھا کہ پھرپھر اس قصے کا سب سے دلچسپ اور چرب زبان کردار منظر میں داخل ہوا ۔ یہ کم وبیش وہی کردار ہے جو اکثرہمیں اپنے محلوں ، چائے خانوں ، بس اسٹینڈ اور پان کے کھوکھوں پر نظر آتا ہے ، وہی دبلا پتلا جسم کلے میں پان دبائے مخصوص حلیہ بال پیچھے کو چپکے ہوئے ، رگڑ رگڑ کر شیو بنائی ہوئی ، تلوار مارکہ مونچھیں ، عام طور پر چٹا کرتا شلوار پہنے جس پر کبھی کبھی کہیں کہیں پان کے داغ ہوا کرتے ہیں اور پیروں میں دو پٹی والی چپل ۔منظر میں داخل ہوتے ہی اس کی شیطانیت اور شر پسندی اس جملے سے ظاہر ہوئی ” ہاں بھئی بڑے باپ کی اولاد ہے ، گاڑی بھی تھی ، مار دی” اس تیلی کا لگنا تھا کہ وہ ٹھنڈ ا پڑتا شخص پھر سے بھڑ ک اٹھااس وقت مجھے یہ نکتہ سمجھ آیا کہ ہمارے اطراف بہت سے چٹے کرتے اور کالے کرتوت والے دو پٹی کی چپل پہنے ہمیں پٹیاں پڑھاتے ہیں اور ہم بغیر سوچے سمجھے اس نفرت کی آگ میں جل کر حد سے گزر جاتے ہیں ، گھریلو معاملا ت ہوں یا گھر سے باہر کے مسائل ہمیں ان چٹے کرتے والوں اور والیوں سے محتاط رہنا چاہیے ، ہم لوگ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا بند کردیں تو جھگڑوں کی ذمے داری ہم پرنہ پڑے کیوں کہ جھگڑے پھر ہونا ممکن ہی نہیں نہیں ، اور نہ ہی ہمارا مذاق اڑے ،ورنہ لوگ تو تماش بین ہیں تالیاں پیٹیں گے اور ہم ان کی تالیوں کی گونج میں ایک دوسرے کو پیٹیں گے ، مسئلہ کا حل اپنا نا یا نا اپنانا آپ پر چھوڑتا ہوں۔nn-زوہیب اکرم

اترك رد