انسان اس انتظار میں اپنے بال سفید کر بیٹھتا ہے کہ کب اتنے پیسے جمع ہوں کہ وہ بارات کی گاڑی میں دلہا بن کر بیٹھ سکے ،جب کہ خوشحالی دلہن بنی اسی بارات کی گاڑی کا انتظار کر رہی ہوتی ہے اور پھر نکاح جیسی آسان اور سادہ سنت کے انتظارمیں ارمانوں کے ولیمے کا جنازہ نکل جاتا ہے۔

اترك رد