بگڑی ہوئی نسل nتنقید برائے تنقید کرنے والے نوٹ فرمالیں۔اس مضمون کا مقصد سگریٹ نوشی کی جسٹی فائی کرنا یا اس کی ترویج نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد سگریٹ نوشی پر کی جانے والی بے نتیجہ تنقید کا جواب دینا ہے، کیوں کہ سگریٹ نوشی مذمت سے نہیں روکی جا سکتی ، اس کو روکنا ہے تو اس کے اسباب کو ختم کریں ۔آئے چند ممکنہ اسباب پر نظر ڈالتے ہیں معاشرے کے ناصحین اوربزرگوں کو اگر نوجوانوں کی صحت اور ان میں بڑھتے ہوئے تمباکو نوشی کے رجحان پر اعتراض ہے اور ان کے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہی رہ گیا ہے کہ نوجوان سگریٹ پی پی کر کینسر کو گلے لگا رہے ہیں ، تو بجائے معاشرے کے ا والد صاحب بن کے سرزنش کرنے کے اس پر غور کرنا چاہئے کہ ایسا کیا ہوا ہے کہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی اوسطا پانچ فیصد سے سولہ فیصد پر آگئی ہے ، فرض کریں محلے کے ایک بڑے میاں کسی نوجوان کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھیں اور اس کو ٹوکنے کے بجائے اس سے وجہ پوچھیں کہ وہ سگریٹ کیوں پیتا ہے اور وہ لڑکا آگے سے یہ کہہ دے کہ مجھے آپ کی بیٹی سے محبت ہے اس ٹینشن میں ہوں کہ آپ سے بات کر وں گا تو پتہ نہیں کیا ہوجائے گا۔۔ تو کیا اب بھی ان چاچا کو اس نوجوان کی سگریٹ کی فکر ہوگی ؟ نہیں نا ؟ بس یہی بات ہے پرابلم سگریٹ نہیں اس کے اسباب کی ہے معاشرے کے فارغ ناخداوں کو چاہئے کہ یہ سروے کیا جائے کہ کس ایج گروپ کا نوجوان سگریٹ پی رہا ہے ۔۔ اگر تو طالب علم ہے تو کیوں پی رہا ہے ۔۔ ، اگر پروفیشنل ہے تو کس فیلڈ سے تعلق ہے اور سگریٹ کی ضرورت کیوں پیش آرہی ۔۔ عموما نوجوانوں میں سگریٹ نوشی چند وجوہات کی وجہ سے بڑھتی جا رہی ہے۔14 سے 20 سال کی عمر کے نوجوان زیادہ تر صرف ہیرو گیری یا اسٹائل مارنے کے چکر میں سگریٹ پیتے ہیں یا پھر کسی نہ کسی ٹینشن کو رفع کرنا ان کا مقصد ہوتا ہے ۔ اس ٹینشن کی وجہ انے کے گھر کا خراب ماحول بھِی ہو سکتا ہے اور کسی لڑکی کا چکر بھی ۔یا پھر زیادہ سے زیادہ فلموں کا اثر۔21 سے 26 سال کے نوجوان ایک عام مشاہدے کے مطابق چرس اور سگریٹ کا استعمال جن وجوہات کی بنا پر کرتے ہیں ۔ ان میں ایک وجہ پڑھائی میں اچھے رزلٹس کا نہ آنا ، محبت وغیرہ کے چکر میں پڑ کر ٹینشن بھلانا، اسٹیٹس سمبل اور اگر پڑھائی مکمل ہو چکی ہے تو نوکری نہ ملنے کی ٹینشن۔27 سے 40 سال کے افراد کی تمباکو نوشی کی ایک بڑی وجہ ان کا پروفیشن ہوتا ہے ۔ ایسے افراد جن کی نوکری کسی بھی طرح کمپیوٹر اسکرینز سے منسلک ہے ، ان میں کسی بھی طرح کے نشے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے اب وہ چھالیہ بھی ہو سکتی ہے اور چرس بھی ۔ تحقیق کہتی ہے کہ کمپیوٹر اسکرینز یا موبائل سے نکلنے والی برقی لہریں انسان کے دماغ کی رفتار کو آہستہ کردیتی ہے ۔ اور کسی بھی طرح کی ڈرگز کا استعمال جس میں چائے ، کافی ، گٹکا، سگریٹ ، چرس ، کوکین وغیرہ شامل ہے دماغ کی کارکردگی کو وقتی طور پر بڑھا دیتی ہے ۔۔اس کے علاوہ اس ایج گروپ کے افراد زیادہ تر ایسے عہدوں پر بھی ہوتے ہیں جہاں ، پلاننگ ، سوچنا اورٹیم مینیجمنٹ ان کے روز مرہ کے کام کا حصہ ہوتا ہے ، نتیجہ دماغ پر زور پڑتا ہے ۔ پھر ایسے افراد بھی سوچنے کے لیے اسموکنگ میں پناہ ڈھونڈتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد جن کا تعلق کسی تخلیقی فیلڈ سے ہوتا ہے مثلا آرٹسٹ یا لکھاری وغیرہ ایسے لوگوں میں عمر سے قطع نظر سگریٹ نوشی کا رجحان زیادہ پایا گیا ہے ،اب اگر وہ لوگ جن کو ملک کے نوجوان لہو کا درد کھائے جا رہا ہے ان کو اس بات کی فکر ہے کہ نوجوان سگریٹ نوشی کیوں کر رہے ہیں تو ان کو بگڑی ہوئی اولاد یا نسل کہہ کر بات بگاڑنے کے بجائے ان کی وجوہات پر بات کریں ، شاید کاونسلنگ سے ہی مسئلے کا حل نکل آئے اور کوئی رستہ مجھے تو نظر نہیں آتا آپ کو آتا ہے تو بتائیں۔nn-زوہیب اکرم

اترك رد