کچھ کنواروں کو یہ احساس کنوارگی ہوتا ہے کہاگر کوئی اپنی بیوی کے پکائے ہوئے کھانوں کی تصویریں کھینچ کر فیس بک پر ڈال رہا ہے تو ، ماں کہ ہاتھ کہ کھانوں کو کیوں بھول گیا، جس نےشادی سے پہلے ساری عمر بنا بنا کے کھلایا ، ان عقل کے اندھوں کو یہ شنید ہو کہ ۔۔ ماں اور بیوی دو الگ الگ کیٹیگریز ہیں ، ان دونوں کا موازنہ کرنے والے ایک دن ان دو رشتوں میں تصادم پیدا کردیتے ہیں ، ایسے افراد جب شوہر بنتے ہیں تو وہ سربراہ بن کے گھر چلانے کے بجائے ۔۔ ایک کونے میں پڑے تماشے دیکھتے رہتے ہیں کیوں کہ عورت کو اس کے جائز حقوق دینا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی ظاہر سی بات ہے ۔۔ عورت قطع نظر اس بات کے کہ رشتہ کوئی بھی ہو۔ توجہ مانگتی ہے ۔۔ اور ان دو رشتوں کے درمیان موازنہ اول تو بنتا ہی نہیں ہےکیوں کہ ایک ماں ہے اور ایک بچوں کی ماں ہے ۔۔ اور دونوں کو توجہ دینی ہے ۔۔ یہ بات یاد رکھئے ۔ توجہ ہمیشہ توازن کے بطن سے پھوٹتی ہے ۔۔ اور موازنہ توازن کا قاتل ہوتا ہے ۔۔

اترك رد