یہ واضح کردوں کہ اس پوسٹ کا مقصد رشتے داروں کی نفی یا ان سے نفرت نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے جو کہتےہیں کہ ہر قسم کے رشتے داروں کے آگے الٹے ہو کر لیٹ جاو کیوں کہ اسلام صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے ۔آئیں ذرا اس صلہ رحمی اور قطع تعلقی کے منجن و چورن کا دوسرا فلیور چکھتے ہیں۔nnکچھ منحوس سوری مخصوص قسم کے رشتے دار جنھوں نے صرف آپ کا بیڑا ہی غرق کیا ہو۔۔ کسی بھی طرح ۔ ان کے بارے میں اگر کوئی جماعتی یا کسی بھی قسم کا مذہبی ٹائپ بندہ کھڑا ہو کر وہاں پر صلہ رحمی کا چورن بیچے تو پلیز اس کو سورہ لہب پڑھنے کی تلقین کریں جس میں نبی اکرم کے سگے چچا کی بربادی کا ذکر ہے ۔۔ اور دور نبوت کے وہ پہلو بھی ان ایک آنکھ والے ملاوں کو پڑھائے جائیں جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ اسلم کے چچا ، عمرو بن ہشام المغیرہ المعروف ابو جہل کے بدر کے میدان میں دو چھوٹے لڑکوں[معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہما] کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے کا ذکر ملتا ہے ۔آج کےلیے اتنا کافی ہے ۔۔ مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ مذہب کی تشریح یہودیوں کی طرح نہ کریں ۔۔ جو اپنے پسند کی چیزیں جو ان کو سوٹ کرتی تھی بس اس کی راگنی گایا کرتے تھے آپ اتفاق کریں یا نہیں کوئی فرق نہیں پڑنا۔۔ دلیل آپ کے سامنے ہے .

اترك رد