آج تک نہیں بھولا وہ جملہ n”زوہیب اس نسل کو اپنی جوانی قربان کرنی پڑے گی تاکہ آنے والوں کا بچپن ، جوانی بلکہ پوری عمر سنور جائے ، خدا کے واسطے جوانی کے بیس سال تج دو، خدا کے واسطے اس دنیا سے سرخرو ہو کر جاو خدا کے واسطے یہ صرف بیس سال کا سوال ہے ۔۔ “
آج تک نہیں بھولا وہ جملہ n”زوہیب اس نسل کو اپنی جوانی قربان کرنی پڑے گی تاکہ آنے والوں کا بچپن ، جوانی بلکہ پوری عمر سنور جائے ، خدا کے واسطے جوانی کے بیس سال تج دو، خدا کے واسطے اس دنیا سے سرخرو ہو کر جاو خدا کے واسطے یہ صرف بیس سال کا سوال ہے ۔۔ “
اترك رد