مگر آپ تو آپ ہیں ۔۔ nnبس مل گیا سکون تمھیں ؟؟ کر دیا نا اکیلا مجھے ؟ کاٹ دیا نا اس زمانے سے ، اڑا دیے نا روح کے چیتھڑے ؟ اب خوش ہو ؟ تمھارا ہو کہ کسی کا نہ رہا ۔۔ میں نے کب تم سے کہا تھا کہ مجھے آواز دو، مجھے نواز دو ، مجھے عطا کرو ، مجھ پہ منکشف کرو گے ، اور اب مسکرا ایسے رہے ہو جیسے میں نے اس سب کی فرمائیش کی تھِی ۔ مسئلہ کیا تھا ہیں ؟ اگر مجھے بھی ان چھ ارب کی طرح رہنے دیتے ، خوش باش ، بے بس ، بے مکان ۔کیوں کیا دربدر ، کیوں جلادیا ، کیوں راکھ کردیا، رہنے دیتے بت۔۔ تم تو بے نیاز ہو نا ؟ تمھیں کیا فرق پڑنا تھا ، بند رہنے دیتے دماغ کے کنویں میں ، خواہشات کے جال میں جکڑا ہوا تھا ، نفس کو پوجتا ہوا ۔ وہ نفس جس نے شیطان کو بھی بہکا دیا تھا ۔۔ اس کو راستہ بنا کر میں نکلا تھا دنیا کمانے ۔۔ کون سی بھلائی کی تھی مِیں نے ہاں بولو ؟ تم اور تمھاری مخلوق کے ساتھ ، ارے میں تو نماز نہیں پڑ ھتا تھا۔ اگر سختی سے پڑھاتا کوئی تو مسجد جا کر بس سر گیلا کر کے آجاتا تھاکہ ہاں نماز پڑھی ہے ۔ میں نے تو گناہ وہ وہ کیے کہ تم اگر سراپا رحمت نہ ہوتے تو کب کا لات مار کہ دربدر کر چکتے ہوتے ۔۔ خیر وہ تو اب بھی کردیا آپ نے ۔۔ کیوں کہ آپ تو آپ ہیں ۔۔ اپنے در پہ ڈال کے سب سے در بدر کردیا۔۔ اپنے پرائے ، سگے سوتیلے سب پاگل کہتے ہیں اب ۔ خوش ہو ؟ خوش ہو نا ؟ اور اب کون سا میں گناہوں سے پاک نہیں ہوں ؟ اب کون سا میں نے تہجد گزاری سیکھ لی ہے جو تم نے مجھے اپنے در پر لا پٹخا ہے ۔۔ ہاں ؟ کیوں کیا تم نے ایسا۔۔ مجھے اکیلا کردیا۔ میں نے کہا تھا ؟ کبھی چاہا تھا ؟ مانگا تھا تمھارا ساتھ ۔۔نہیں نا ؟ دنیا میں آیا تھا۔۔ دنیا کے مطابق جی رہا تھا ۔۔بچپن بدکار تھا ، لڑکپن بھی لکڑی کی طرح اکڑا ہوا ، نہ جھکنے والا ، بدکلام ، بد قماش۔اور جوانی ۔۔ واہ واہ ۔۔ جوانی تو جس طرح گزار رہا ہوں تم تو علیم و خبیر ہو ، بصیر ہو۔۔ نظر آرہا ہے نا؟ کسی خیر کی توقع ہے ۔۔ ؟کسی تقوے کی امید ہے ؟ نہیں نا ؟؟ اگر ہے تو مجھے میں کیوں نہیں چمکتی وہ بوند ، وہ جگنو ، وہ شفافیت۔۔ بساند آتی ہے مجھے اپنے سے اور تم سینے سے لگائے بیٹھے ہو۔۔ اب تمھارے بھی کیا کہنے نا۔۔ ؟ روزے دار کی منہ سے آنے والی بدبو تو تمھیں مشک لگتی ہے اب میں تمھارے پیمانوں پہ کیا سوال اٹھا وں ۔۔؟وہ تم جانو تم سمجھو ، میں کون ہوتا ہوں کچھ کہنے والا ۔ خالق ہو جو کرو ، تمھارے کن کا غلام تو فیکن ہے میں کس کھیت کی مولی ہے ۔۔ اگر مگر لیکن چونکہ چنانچہ ۔ میں نہیں کرتا ۔۔ بس مہربانی کرو۔۔ مجھَ پر یہ انکشاف کردو۔۔ مری ذات کو ذرہ کیوں بنا دیا ۔۔۔ ؟ اپنے قدموں کی دھول ۔۔ اپنے در کا فقیر ۔۔ رہنے دیتے نا گندے جوہڑ کا مینڈک گناہوں میں لتھڑا ہوا ۔۔ اور آخر میں بخش کے پھینک دیتے جنت کے کسی دور دراز کونے میں ۔۔ ظاہر ہے یہی تو کرتی ہے تمھاری رحمت ۔ ۔۔ تو سہی تھا نا ۔۔ مجھے قبول تھا۔۔ لیکن یہ کیا کیا ۔۔ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے نفرت کروا دی ۔۔ پانی بے ذایقہ ہے لیکن کڑوا لگنے لگا ہے ۔۔ کافور میں موت کی خوشبو ہے ۔ لیکن ایٹرنٹی کی مہک آتی ہے ۔۔ پھر گناہ سے پہلے توبہ کی ترغیب ۔۔ چاہ کیا رہے ہو ؟؟ کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔ اتنی عطا کی اوقات نہیں مری ۔۔ تمھارے فیصلے اور چوائیس پر کوئی سوال نہیں نہ شک ہے نہ شبہ ۔۔ تم تو سراپا ایمان مجمل و مفصل ہو۔۔ میرے غلیظ پلید نفس اور ذہن کو سمجھ نہیں آرہی ۔۔کہ مجھ تکبر سے بھرے ہوئے پتلے کو خاک کیوں چٹا دی ۔۔ غلطی سے بھی کچھ سوچ لوں ۔۔ تم اس کو پورا کر دیتے ہو۔۔ تمھارے سامنے ہی رہی ہے میری زندگی اور آگے بھی رہے گی ۔۔ تم سے بچ کے کہاں جاوں گا۔۔ سانس لینا کوئی بھول سکتا ہے ۔؟ پھر بھی ۔۔ کوئی ایک نیکی ہی ایسی منکشف کردو ۔ جس کی بدلے تم نے یہ عشق کی بوند ٹپکا دی ہے جس کی وجہ سے حلق پیاس کے مارے سوکھ رہا ہے ۔۔ اورمیں نے تو تمھاری یاد کی سحری بھی نہیں کی نا ۔۔ کیوں پھر تم نے اپنے قرب کا پورا buffet دے دیا ۔۔ کیا میری زندگی کی افطاری ہونے والی ہے ۔۔ کیا شام ہونے والی ہے ۔۔ اگر ہونے بھی والی ہے تو پھر یہ سب عنایات کیوں کچھ دن اور اسی بے حسی بے بسی میں جینے دیتے ۔۔ اچھا خاصا تھا۔۔ اسی لیے پڑھائی کی تھی ؟ اسی لیے یہ ذہن عطا کیا تھا ۔۔۔ پتا نہیں کیا کیا کرتا رہتا ہوں ؟ کیوں کیوں کرتا رہتا ہوں جب سے دنیا کی نفرت ایسی ڈال دی ہے تم نے کہ نفرت کو بھی اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی ہے ۔ ہر طرح کی محبت سہمی بیٹھی ہے ۔۔ خوف کو خوف آنے لگا ۔۔۔ اور ۔۔ اور یہ بتاو ذرا کہ پھر یہ سات آٹھ سالہ کیریر گرومنگ کیوں دی ۔۔ جب دنیا کو ابکائی بنا کر میرے اندر سے نکالنا تھا۔کیوں ساڑھے تین ہزار سے پچپن ہزار تک لائے ۔ یہ کیا کیا یار ؟ کیوں کیا ۔۔ وجہ بھی سمجھاونا اب مجھے ۔۔ کچھ تو اشارہ دو۔۔ کوئی تو سگنل دو تاکہ یہ گاڑِ ی کسی طرح آگے بڑھے ۔۔ سنگل سائیڈ پیار کیوں کیے جارہے ہو۔۔ میں ڈر رہا ہوں۔ ان عنایات سے۔۔ ڈر ڈر کے مانگنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔۔ اور آپ دیے جارے ہو۔ مانا کہ آپ کے ہاں کمی نہیں لیکن میرے مالک میرا ظرف نہیں اتنا کہ آپ سے کچھ مانگوں ۔ میری اوقا ت ہی کہاں ۔۔ تھک ہار کر میں نے خواہشات بڑی کردیں ۔ یہ سوچ کر کہ چلو آپ تو پوری کر سکتے ہو۔۔ لیکن ظاہر ہے بڑی خواہشات کے لیے مجھے کوشش زیادہ کرنی ہوگی اور وہ میں کروں گا نہیں تو آپ پوری بھی نہیں کرو گے ۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا آپ تو آپ ہیں ۔ آپ تو خیال تو تکمیل بنائے جا رہے ہو۔۔ میں تو مانگ ہی نہیں رہا۔۔ اب کیا کروں۔ ۔۔ آپ ہی کچھ بتا دو کسی خواب میں کسی اشارے میں ورنہ بال اور ڈاڑھی بڑھتی جارہی ہے ۔۔ اور غازی شاہ کا مزار زیادہ دور نہیں۔

اترك رد