تین ہستیاں ، تین حادثے اور تین کلو گاجریں
یکم دسمبر 2015nبوقت : شام سوا چھے بجے
مریم کہتی ہے کہ اگر اپ ایک بازار میں کھڑے ہوں ، اور اپ کا دوست آپ سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو۔ اتنے فاصلے پر کہ آپ کو اسے چلا کر آواز دینی پڑے ۔ تو آپ کیا کریں گے ۔۔ ؟ ظاہر ہے آپ کوشش کریں گے کہ اس کو پکار کر اپنی طرف متوجہ کر لیں ۔ ایسا کرتے ہوئے آپ کو تین کام کرنے پڑیں گے ۔
اپنے ہاتھوں کا بھونپو بنانا پڑے گا ، تاکہ آواز converge ہو کر اس تک پہنچ جائے ، نمبر دو ، آپ کو اپنے ارد گرد کے شور اور لوگوں کو چند لمحوں کے لیے اگنور کر کے اپنے دوست کے کان کے پردے پر فوکس کرنا ہوگا۔۔ اور پھر ایک دو یا تین فلگ شگاف آوازیں دینی پڑیں گی ۔۔ اس سے دو صورتیں ہوں گی ، یا تو وہ آپ کی طرف متوجہ ہو گا ۔ یا پھر نہیں ۔۔ اگر ہوگا تو پھر آپ اس کی طرف ہاتھ ہلا کر کہیں گے ۔۔ٹھہرے ۔ آپ اس سے کیا کہیں گے ۔۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کی اس سے دوستی کتنی گہری ہے۔۔ اگر وہ آپ کا صرف دوست ہے تو آپ ہاتھ ہلائیں گے اسے بلائیں گے ، گپ شپ کرِیں گے زیادہ سے زیادہ ایک کپ چائے پئیں گے اور بس ۔۔ لیکن اگر وہ آپ کا اچھا دوست ہے تو آپ کے بلانے کا انداز مختلف ہوگا۔۔ آپ اسے “اور بوائے کیسا ہے ” کہہ کر متوجہ کریں گے ۔۔ اس کے قریب آنے پر آپ گرمجوشی سے گلے ملیں گے خواہ آپ کسی کالج میں پڑھتے ہوں یا۔ یا آپ کوئی خرخراتے ہوئے بڈھے ہوں ۔۔ تیسرا طریقہ جو کہ بہت ہی گہرے دوست اختیار کرتے ہیں ۔۔ اور جو کافی مقبول تو نہیں لیکن عام ضرور ہے یہ وہ طریقہ ہے جو نوجوان ، جوان ، اپنے اسٹیٹس کو بھول کر اختیار کرتے ہیں ،۔۔ آپ اگر اپنے چڈی فرینڈ کو ایسے دیکھ لیں تو آپ بجائے کیسی بھی مہذب طریقے کے براہ راست۔۔ اس کو چلا کر آواز دیں گے اور کہیں گے ۔۔ “اوئے کنجر تو ابھی زندہ ہے ” ۔۔ اب فرض کریں وہاں اس کنجر کے علاوہ کچھ اور مزید کنجر ہوں جو اس کے ہم نام بھی ہوں ۔۔ یعنی آپ کے دوست کا نام ، اگر ایسا ہے جو بہت کامن ہے ۔۔ مثلا علی یا عبداللہ یا کوئی بھی ایسا نام ۔۔ اور وہاں اس منظر میں اس مارکیٹ کے شور وغل میں تقریبا درجن بھر علی ہیں یا عبداللہ ہیں ۔ لیکن ظاہر ہے آپ سب کو نہیں جانتے لیکن آپ نے اگر ایک کو آواز دی ۔۔ تو کیا ہوگا۔۔ ایک پل کے لیے جتنے بھی ہم نام ہیں وہ آپ کی طرف متوجہ ہونگے ۔۔ ٹھیک ہے ؟؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ۔۔ کہ میں اتنی بکواس لکھ کیوں رہا ہوں ۔ ظاہر ہے ۔۔ یہ سب مریم نے نہیں کہا۔۔ مریم بیچاری تو صرف اتنا بول کر چپ ہوگئی تھی کہ اگر ا بھیڑ میں آپ آواز دیں ۔اور وہ آواز مختلف ہم نام افراد تک پہنچے تو ایک لمحے کو وہ لوگ اس پر متوجہ تو ہونگے نا ؟؟ جی ہاں بس مریم نے اتنا ہی کہا تھا۔۔ اس ایک جملے سے ایک صحفہ میں نے خود گھڑلیا۔۔ بلکہ میں نے یہ کیا نہیں یہ مجھ سے ہوگیا۔۔ کیا کروں تین کلو گاجروں کا احسان کچھ کم ہے کیا ؟ ۔۔ ذرا رکیں ۔ یہ تین کلو گاجریں ۔۔ جن کی وجہ سے یہ سارا کیمیکل ری ایکشن ہوتا ہے ۔۔ یہ ساری انریجیز ٹریول کرتی ہیں ۔ خیر اس وقت میں جو اتنا سائنسدان دا پتر بن رہا ہوں ، بیچاری مریم کا منہ تو میں نے وہاں یہ بول کر بند کردیا تھا۔۔ کہ اس بے ہودگی کا علاج موبائل فون ہے ۔۔ آجکل کے دور میں ایس ایم ایس ہے ، کال ہے ۔۔۔ میں کیوں رش میں چیخوں چلاوں ۔۔۔ مریم کہاں ہار مانتی ۔۔ وہ کہنے لگی اگر موبائل فون آف ہو تو ؟ اگر دوسرے بندے کے سیل کی بیٹری ڈیڈ ہو تو ۔۔۔ اوہ تو ایک عورت اب مجھے دلیل دے گی ۔ اس کی یہ ہمت ؟ اس کو کیا حق ہے کہ یہ جذبات کی بنی ہوئی مخلوق اب ہم سے دلیل دے کر بات کرے ۔۔۔ یہ وار میں نے سہا اور اگلا جواب اتنی ہی شدت سے دیا کہ ۔۔ تو کیا ہوا میں اس کی طرف واک کروں گا۔۔ مریم بولی اگر وہ رش میں گم ہوجائے تو ۔۔ ہوجائے تو ہوجائے ۔۔ مجھے کوئِ ارجنٹ کام تو ہے نہیں ۔۔ کبھی تو اس کا میرا سیل چارج ہوگا نا ۔۔ پھر کال کر کے ملنے کا بول دوںگا۔۔ لیکن تمھارے کو دلائل دینے کا حق نہیں کم از کم کسی مرد کے سامنے ۔۔ تم لوگ لڑکیاں ہو بہتر ہے آپس میں دلیل کی کیٹ فائت کیا کرو۔۔ یہ بل فائٹنگ کے چکر میں کچلی جاو گی ۔۔۔ ہماری اس بک بک میں تین کلو گاجریں ۔ حلوہ بننے کا انتظار کر رہیں تھیں ۔۔ شاید کسی گروسری اسٹور میں ۔۔ یا شاید کسی کھیت میں ۔۔ کیوں کہ رات کے آٹھ بجے بحریہ ہومز کی خنک شام میں ظہہیر بیچارے کے دماغ میں کدو کش ہو چکا تھا۔۔ nذرا رکیں ۔ نہیں میں کوکین اڈیکٹ نہیں ہوں ۔ نہ ہی سگیرٹ یا کسی اور انرجی ڈرنک کو میں نے اپنی کمزوری بنایا ہوا ہے ۔۔ اصل میں یہ سب اتنا جلدی ہوا ۔۔ اور اس طرز پر ہوا۔۔ نہیں طرز تو کوئی تھی ہی نہیں ۔۔ اوہ بابو ۔۔ کدھر جانا ہے ۔۔ کنڈکٹر میرے سر پر کھڑا تھا۔۔ یار۔ بتایا تو تو ہے ۔۔ لاہور نیازی اڈے پر اترنا ہے ۔۔ یہ کہہ کر آنکھیں موند لیں ۔۔موبائل میں موجود جی پی آر ایس آن کیا۔۔ خوش قسمتی ہسے نیٹ آن ہوگیا۔۔ ظہیر بیچارہ آن لائن تھا nاس کا دعوی ہے کہ وہ میرا دو تین سال سے شناسا ہے ۔۔ ہاں کسی حد تک صحیح ہے ۔۔ میں نے اس کو کہا۔۔ کوئی فون نمبر دو اپنا۔۔ میں لاہور آرہا ہوں ۔۔ مل لیتے ہیں ۔۔ اس نے اس وقت شاید رسمی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا جو بعد میں تین کلو گاجروں کی صورت میں اسے کے گلے کی پھانس بن گیا ۔۔
صبر نا۔۔ بتا دیتا ہوں یہ تین کلو گاجروں والا سین بھی ۔۔ یہ بھی اتفاق ہی تھا۔۔ پتا ہی نہیں قدرت کے پلان ہمارے لیے اتفاق کی صورت میں سامنے آتے ہیں ۔ اور ہم کہتے ہیں ۔۔ واہ کیا یار کیا قسمت ہے میری ۔۔ ابے وہ قسمت نہیں قدرت ہوتی ہے ۔ جو ہمیں دیکھ کر ہنس رہی ہوتی ہے ۔ کہ دیکھو یہ نادان انسان ۔۔ ہجوم میں کھڑا ہو کرموبائل سے آوازیں لگا رہا ہے ۔۔اور اس کوپتا نہیں ہے کہ آواز ساونڈ ویو ہے نہ کہ انفرا ریڈ ۔۔ کیوں اپنے انٹیلیجنس ۔۔ کو کیریر پر بٹحا کر ۔۔ اس کے ہاتھ پاوں باندھ رہا ہے ۔ کیوں ظہیر کو کالیں کر رہا ہے ۔۔ اس کو کال نہیں آواز دے ۔ ہم لوگ ۔۔ بھی عجیب ہیں مس کال کے ذریعے ایک دوسرے کو مس کرنے کے ثبوت دیتے ہیں ۔ جب کہ مس کرنے کا ثبوت دینا کیا ہوتا۔۔ نہیں یار میں ظہیر کو مس نہیں کر رہا تھا۔۔ nکیا بکواس ہے ۔۔ صبر واپس آ کر سمجھا تا ہوں۔۔ ایک دن میں تین تین حادثات۔۔ بھگتنا۔۔ ایسا تو ہونا تھا۔۔ اور کھاو تین کلو گاجریں ۔۔
وہ تینوں ہستی نہیں حادثے تھے ۔۔ جی ہاں جو اٹھارہ گھنٹوں میں وقوع پذیر ہوئے ۔۔ جی ہاں وہی تین ۔۔ ایک ڈاکٹر جو رائٹر بھی ہے ۔۔ ایک بینکر جو فلاسفر بھی ہے اور ایک وڈیو گیمر جو۔ ممتاز مفتی کو پڑھتا ہے ۔۔ یہ حادثے ہی تو ہے ۔ اور ہاں وہ گاجریں ۔۔ صبر یار تھوڑی دیر میں واپس آکر بتاتا ہوں۔۔ تین کلو گاجروں ، تین ہستیوں اور تین حادثوں کی یہ ایک دن کی ملاقات کی کتھا ابھی جاری ہے ۔۔انتظار کرلو۔۔ ورنہ کٹ لو۔۔ پتہ نہیں اب لکھنے کا موڈ کب بنے nnیکم دسمبر 2015nبوقت : رات دس بجے nہاں جی ۔۔ تو بس وہ اصل میں گاوں سے ایا ہوا ساگ کھانے اور سگریٹ پینے چلا گیا تھاہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ۔۔تو خیر ، میں لاہور کے نیازی اڈے پر تقریبا دس سال بعد کھڑا تھا۔۔ اور سوچ رہا تھا ۔۔ یار اس شہر میں اس وقت کم از کم چار ایسے لوگ ہیں جو مجھے اس طرح جانتے ہیں جس طرح میں اپنے ہاتھ کی لکیروں کو۔۔ لیکن کیا میں واقعی لکیروں کو جانتا ہوں ۔۔ اس لیے میں نے گاجر والے سے ۔ اوف و۔ میرا مطلب ہے اس پانچویں یعنی ظہیر سے ظہر کے وقت ظہیر سے رابطہ کیا۔۔ ظاہر ہے ۔۔ ظہیر کا ظہور عالم غیب سے تو ہوا نہیں تھا۔۔ میری بات اس سے سفر کے دوران ہو چکی تھی ۔۔ میرا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا کہ اس غریب کا ٹائم برباد کروں ۔ بس اس سے کچھ روٹس کنفرم کرنے تھے یا زیادہ سے زیادہ ایک آدھ ملاقات۔۔ کم از کم ہم نے یہی سوچا تھا۔۔ لیکن آج تک جو سوچا ہے وہ ہوا ہے کیا ؟ اگر ویسا ہوجاتا تو آج میں راسپوتین ہوتا۔۔ اور ظہیر۔۔ ہاں وہ بھی راسپوتین ۔۔[یہ میرا اندازہ ہے ۔۔ ورنہ اس بیبے بندے کی اتنی ہمت نہیں ۔۔ یا شاید ہمت ہے ۔ اور طاقت بھی ہے ۔۔ لیکن پتہ نہیں کچھ ہے ایسا جو اس کے پاس نہین ہے ۔ اس لیے وہ آج ظہیر ہے ۔ اور میں ۔۔ اور میں ۔۔ چلو چھوڑو اس گاجروں پر آئی مین ظہیر پر CONCENTRATE کرو۔n15دسمبر 2015nبوقت : شام سوا سات بجے nاب یہ الگ بات ہے کہ تقریبا پندرہ دن بعد بعد میں اس سلسلے پر concentrate کر رہا ہوں ۔۔ وقت موڈ، اور موج ۔۔ ان تینوں کی وجہ سے ٹائم نہیں ملا۔۔ بلکہ ٹائم ملنا کیا ہوتا۔۔ ۔۔ کچھ نہیں ہوتا۔۔ دفع کرو۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا ظہیر بیچارہ ظہر کے وقت لاہور ٹھوکر نیاز بیگ پر آگیا۔۔ نیٹ کا دوست۔۔ وہ بھی مرد۔۔ گاڑی میں آپ کو ریسیو کرنے آنے اور ہاتھ ہلائے ۔۔ اور آپ پر نظروں سے واری صدقے جائے [ یہ میں زیب داستاں کے لیے لکھ رہا ہوں]۔ تو ظاہر ہے ۔۔ آپ کو شک تو ہوگا نا۔۔ خیر اب گاجروں میں سر دے دیا تو بیوی سے کیا ڈرنا۔ ابے یار میرا مطلب ہے کہ اب جب رشتے داروں کو کٹا کر نیٹ فرینڈ کو منہ دے ہی دیا تھا تو اب بھگتو تو خیر۔۔ جا بیٹھا اس کی گاڑی میں۔۔ اور ہم جا پہنچے وہ کیا تھا۔۔ ہاں eme society کے ذی گرل میں ۔۔ وہاں پر اس کی جیب ہلکی اور میرا پیٹ بھاری ہوا، پھر جو باتوں کو سگرٹوں کے دھویں میں اڑایا جو جو وہ میرے بارے میں کرتا رہا۔۔ اور اب فیس بک سے نکل کر جو اس کے سامنے میں نے اپنے قصے کہانیاں کھولے تو اس کا دماغ کھل گیا۔۔ اسے یہ سب افسانوی لگ رہا تھا اور مجھے بھِی ۔۔ خیر زیادہ کچھ کہوں گا نہیں کیوں کہ ایسا کچھ تھا ہی نہیں بس دو شادی شدہ مردوں کی ٹینشنز۔ نہیں نہیں بھابھی یہ ظہیر نے نہیں کہا یہ میں خود کہہ رہا ہوں وہ تو بڑا بیبا شوہر نکلا ۔۔ بس اس کو مجھ سے دور رکھیں ورنہ میں نے ست رنگی ڈی پی لگا کر کینیڈا کا ویزا لگوالینا ہے ۔۔ خیر اب تو پتا نہیں کب ملنا ہو۔۔ شاید اگلے ماہ یا شاید جب وہ جب بھی وہ کراچی آئے خیر پھر تقریبا تین بجے ہم واپس ٹھوکر آئے ۔۔ کیوں ۔۔ وہاں سے کراچی سے زیرو کیش پر آنے والے دو افراد کو پک کرنا تھا۔۔ عمر اور دیکھنے میں تو دونوں بچے تھے ۔۔ لیکن ایسے بچے جو ڈائناسور کی بھی ڈلیوری کروادیں ۔۔ ان کی پک کیا۔۔ ہماری اگلی منزل بحریہ ہومز تھی ۔۔ جہاں پروفیشنل میٹنگ ہونا تھی۔ ظہیر بے چارے کا کوئی کام نہیں تھا۔ ظاہر ہے سب سے ویلا بندہ ہی شادی شدہ ہوتا ہے ۔۔کیوں کہ بے کار آدمی کا دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے ۔۔ پھر وہ شادی نہ کرے تو اور کیا کرے ۔۔ لیکن جب مائنڈ میچ ہوجائے تو پوری زندگی کام بن جاتی بس یہی ہو رہا تھا۔۔ اس نے کہا بھی یار اب تم تین ہوگئے ہو۔۔ اب تم لوگ میرے سر پر بندوق رکھو گے ۔ یا میں تمھارے یہ مجھے نہیں پتہ کیوں کہ ہم تینوں بلکہ چاروں ایک دوسرے کو نہیں جانتے ۔۔ تب ایک طرف سے آواز آئی ۔۔ دیکھ بھائی ہم بندوق جیب سے نکال کر سر پر نہیں رکھتے ۔۔ اب کہاں سے نکال کر کہاں رکھتے ہیں یہ بتا کر منٹو کی پیروی نہیں کرنی ۔ بس یہاں سے سب کے مردانہ دماغ جو ابلنا شروع ہوئے ۔ تو بس بحریہ جا کر ہی یہ پارلیمانی گفتگو تھمی ۔۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں اس ڈاکٹر کم فلاسفر سے ایک اسٹوری ڈسکس کرنی تھی ۔ اسی دوران ظہہیر بےچارے کو گھر سے تین کلو گاجروں کا آرڈر آیا جو اسے گریبان سے پکڑ کر فلسفے تاریخ ، آئیڈیالوجیز ، معرفت ، روحانیت، جسی چیزوں سے نکال کر حقیقتت کی تلخ دنیا میں لے آیا۔ بے چارہ you are here to know سے You are here to buy carrots کی عملی تفسیر بن گیا۔۔ خیر اب مرتا کیا نہ کرتا۔۔ ہمارےساتھ اس کو مزا بھی آرہا تھا ہماری وجہ سے نہیں بلکہ سوشل لائف کے حقیقی چسکے ۔۔ ہیلو آئی مس یو ، لانگ ٹائم نو سی ۔۔ سے باہر کی دنیا۔۔ او بغیرت کدھ مرگیا والا اسٹائل ۔۔ یہی وہ تلاش رہا تھا۔۔ اور یہ اسے اپنے پڑوس یعنی بحریہ ہومز میں ملا۔۔
اب بحریہ ہومز میں کیا ہوا اس کی کہانی اسی ڈاکٹر نما فلاسفر کو لکھنے کو کہا ہے پھر وہاں سے میں continue کروںگا۔۔ کیوں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے ، کو ئی اور کرے تو گاجر کاٹے اوہ میرا مطلب ہے ٹھینگا باجے ۔۔
پوسٹ – 2015-12-15
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد