پوسٹ – 2015-12-27

بیچاری گڑیا اور گڈا۔
تاریخ : 27 December 2015 , sundaynبوقت: 9:02 Amnیہ گڑیائیں کتنی اچھی ہوتی ہیں نا ۔۔پلاسٹک کی بنی ہوئی احساسات سے خالی ، تاثرات سے بھری گڑیا ، سر بسجود ، نہ امیدوں کے ڈراوے نہ سپنوں کی ڈور ۔۔۔ یہ چھوٹی ہوں تب بھی محفوظ یہ بڑی ہوجائیں تب بھی دوپٹہ سینے پہ نہیں لینا پڑتا ، گدھوں کا ڈر جو نہیں ہوتا ، یہ لاڈلی بھی ہوتی ہیں ، اور پیاری بھی انھیں تو جاہل سے جاہل شخص بھی زندہ نہیں گاڑ سکتا لیکن اگر کوئی گاڑ دے تو یہ گڑیائیں ، آسیب بن جاتی ہیں ۔۔ اس شخص کے لیے بھی جس نے انھیں سوئیاں چبھو کے گاڑا اور اس کےلیے بھی جس کے لیے گاڑا اور شاید اس کے لیے بھی جن کے ساتھ گاڑا ۔۔ ہاں ناں گڑیاوں کے ساتھ تو شریکے کے مسلے مسائل بھی نہیں رہتے ۔۔۔ یعنی گھر میں کوئی چیز کھانے کی لاو تو اس کیوں زیادہ دے دی ،مجھے کیوں کم دی ، میں بھی تو آپکی گڑیا ہوں ۔۔۔ بھائی بہناپے کے سیاپے سے سینکڑوں میل دور لاعلمی کا گھونگھٹ نکالے سر جھکائے بیٹھی رہتی ہیں ، جس نے جہاں رخ موڑ دیا وہاں رخ کر لیا ، نہ سوال نہ جواب ، بس اطاعت ۔۔ ایسا نہیں کہ یہ اطاعت نقصان دہ ہوگی ، یا ان کا وقار مارا جائے گا۔ بلکہ یہ انھیں ٹوٹنے سے بچاتا ہے ۔۔ پھر ہر دوسرا بندہ لاڈ اٹھا رہا ہے ، گڑیا گھر بنا رہا ہے ۔۔ جیسے گھرانے میں ایک نئے فرد کا اضافہ ، گڈے گڑیا کی شادی کروانے والیاں اپنے گھر سدھاریں لیکن گڑیا آج بھی کنواری ، مقدس معصوم ، گڑیا کی عمر تو بلوغت کو بھی نہیں چھوتی ۔۔۔ یہ بلوغت ہی تو بگاڑ لاتی ہے نا وقت سے پہلے ہو وقت پر ہو یا وقت پر یہ بلوغت ہی تو بربادی لاتی ہے ۔۔۔ ہارمونز کی تبدیلی ، ماہواری ، مہینے کے سودا سلف میں ایک اضافی چیز کا اضافہ ہوجانا جو اگر خریدنے جاو تو دکاندار مسکرائے ، کسی مرد کو بھیجو تو وہ شرمائے ، پھر سستی چھائے رہنا۔ لیکن گڑیا اس سب سے دور ، بال باندھے ، سر جھکائے احساسات سے خالی اور تاثرات سے بھری ۔۔ گڑیا گڈے کی شادیوں میں نہ جہیز کی فکر، نہ رشتے داروں کی لیزر بیم جیسی نظروں کا سامنا، نہ توقعات کا جلتا توا ،اسکول کالج یونیورسٹِی ، آفس جیسی آلائیشوں سے پاک ۔۔ اور تو اور ۔۔ نہ بار بار رانگ نمبر سے آ تے میسجز ، نہ بہکاتے رال ٹپکاتے پھڑ پھڑاتے گدھ۔۔ یہ بڑی خوبصورت مخلوق ہے بلکہ مخلوق نہیں یہ تو گڑیا ہے ۔۔ اس کا خمیر تو پلاسٹک ہوا نا ۔۔اور پلاسٹک نہ نوری ہے نہ ناری ۔ ایک جیسے پلاسٹک سے بنی ، کانچ کی آنکھوں والی پلکیں مٹکاتیں بہت ساری گڑیائیں ۔۔ سرکو جھکائے فیکٹری کی بیلٹ سے گڑیا گھر کے سفر تک خاموش اور اطاعت گزار ۔۔ اور ہاں وہ کیا کہتے ہیں اس کو۔ وہ عالمی یوم حقوق ۔۔۔ ہاں عالمی یوم حقوق گڑیا جیسے دن بھی نہیں ہوتے ۔۔ ضرورت ہی نہیں پڑتی ،سارے حق سارے دن سارے ممالک ، ساری براردری ، گڑیا کے لیے تو ایک ہی ہے نا۔۔nn12:47 PMn27 December 2015/sundaynنہ بابل کا آنگن چھوڑنے کی پرابلم ، نہ پیا دیس سدھارنے کی خوشی ، نہ ساس نندوں کے سنپولیے ، کیوں کہ وہ خود بھی تو پھر گڑیا ئیں ہی ہوتی ہے نا ؟؟ اور جب یہ گڑیا ہوتی تو پھر ان کا گڈا بھی ہوتا، کیوں کہ آدم کو حوا چاہئے تو گڑیا کو گڈا ، بلکہ چاہئے کیا بھی ، یہ تو ہم نے ہی مسلط کیے ۔۔گڑیا ہوتی تو نہ رشتے ہوتے ، رشتے نہ ہوتے تو کوئی خالہ چچا ماما اپنے بچے کے لیے آپ کو منتخب نہ کرتا کیوں کہ لڑکے تو گڑیوں سے نہیں کھیلتے نہ ۔۔ تو گڑیا ہوتی تو سہیلی بھی گڑِیا ، اور مالکن بھی لڑکی ، ہم ہم نہ ہوتے ، گڈے ہوتے ، اور گڈے بھی وہ جن کو پڑھائی لکھائی ، کیرئر جیسی علتیں نہیں پالنی پڑتی ، وہ بس ایک گھر میں کھڑے پڑے ، بالکونی سے جھانکتی گڑِیاکی طرف مسکرا کر نظریں ٹکاے رہتے ہیں ۔۔ نہ بدنامی کا ڈر نہ کسی رشتے کا۔۔ اور بدنامی تو نیک نامی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔۔ جتنا بڑا نام ، اتنا ہی پاک صاف رہنے کی ذمے داری ، گڑیا کی نظر وں کی چھینٹ بھی پڑ جائے تو جب تب بیت اللہ کے سامنے متھا نہ ٹیک آئیں ، اس وقت تک آپ کا حشر حساب سب بائیں ہاتھ میں ۔۔ چاہئےاعمال نامہ لکھنےوالے فرشتے خود چھٹی پر ہوں لیکن وہ چھٹی پر تو ہو نہیں سکتے لیکن ایک طرح سے ہوتے بھی ہیں کیوں کہ ہمیں توبہ کے لیے ملنے والی مہلت چھٹی ہی تو ہوتی ہے ان فرشتوں کی ورنہ کوئی خالہ خیرن تو ہوتے نہیں یہ بیچارے ۔۔ جو کاتا اور لے اڑے کے مصداق فورا رجسٹر نوٹ کرلیں ۔۔۔ nیہ نوٹ کرنے بیٹھے ہیں چغلی نہیں ۔۔ اور چغلی کریں بھی تو کس کی ۔ گڑیا کی ؟ گڈے کی ؟ جو نہ بدنام ، نہ نیک نام ۔۔ جو صرف۔۔ نیوٹرل ۔۔ کیوں کہ نیک نامی تو بدنامی ہی کا سبب بنتی ہے ۔۔ جتنا شفاف جسم ہوگا نظریں اتنی پھسلیں گی ۔۔ اور کچھ اعمال تو چھونے سے میلے ہوجائیں ۔۔ بس وہی بات ہے ۔۔ کہ گڑیا اور گڈا ہونے میں ہی غنیمت ہے ۔۔ لیکن انگریز ایسے بغیرت ہیں کہ اس پر بھی فلم بنا دی ہے ۔۔ جسم میں گڑیا سیریل کلر اور پھر بعد میں بیوی بھی آتی ہے ۔۔ گڑِیا میں فحاشی اور خون خرابہ ڈال دیا۔۔ اور نام رکھ دیا ۔۔ چائلڈز پلے ۔۔ قتل و غارت والی فلمیں مزے دار ہوتی ہیں ۔ کہانی کے اعتبار سے لیکن ۔۔ گڑیا ۔۔ نہیں یار گڑِیا کے ساتھ ظلم نہیں ۔۔ ایک گڑیا ہی تو انسان کی بچی باقی رہ گئی تھی ان انسانوں بھری دنیا میں تھی ، اس کل یوگ میں ۔۔ ایک گڈا ہی تو تھا جو انسان سے دو قدم آگے آدمیت پر فائز تھا۔۔ اس میں احساسات ڈال دیے ، حیران نہ ہوں گڑیا انسان ہی ہے ۔ جی ہے بالکل ہے۔۔ کیا کہا ؟ کیوں ہے ؟ جی وہ اس لیے انسان ہے کہ انسان کا لفظ نسیان سے ہے ،یعنی بھولنے والا۔ تو گڑیا سے زیادہ انسان کون ہوگا جس کے پاس بھولنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں۔۔، اور پھر ہم انسان کہاں بھولتےہیں اب ، اپنے دماغ کو پورا استعمال نہیں کرسکتے تو اس ٹھیکہ دوسروں کو دیے دیا ، مشینوں کو دے دیا ویکیوم ٹیوب ، فلاپی ڈسک ، ہارڈ ڈسک ، میموری چپس، اور ایک انچ سے بھی کم اب انسانیت میموری کارڈ میں بھی دستیاب ہے ۔۔ پھر بھی چین نہ آیا تو لگے مشینوں کو انسان بنانے۔۔ انہیں مصنوعی ذہات سے نوازنے ۔۔ ارے خود تو انسان بن جاو آدمی بھی نہیں انسان ہی بن جاو، کم از کم پتھر کے دور والے ہی بن جاتے تو دوسروں کو پتھر کے دور میں پہنچانے کا جذبہ نہ ہوتا۔جنون نا ہوتی ، جان ہوتی ، ایک جرثومے میں بھی ہوتی ہے ۔۔ اور جرثومہ بھی تو انسان ہی ہوا نا۔۔ دیکھو ایک سے دو ہوتے ہیں امیبا اور بھول جاتے ہیں ۔ شاید اس سے زیادہ سادہ سی قربانی اور ایثار کی بائیولوجیکل مثال نہ ملے ۔۔ اور یہاں ہم نے بیکٹیریا سے بھی وائیرس بنا لیے یعنی حیاتیاتی ہتھیار، کیا بات ہے ۔۔ نام میں حیات ہے ، اور کام میں ہتھیار تو پھر تو انسانیات سے گئے اور گڑیاں انسان بنتی جا رہی ہیں سب بھولتی جا رہی ہیں تو پھر ہم لوگ کیا بنتے جار ہے ہیں ؟ گڑیا گڈوں کو نہ جاب کی ٹینشن ، نہ ہی یہ فکر کہ ڈگری تو مل گئی اب نوکری کیسے ملے گی ، اور نوکری مل گئی تو ڈوپٹہ سینے پر لوں ، یا گلے میں یا پھندا بنا کے بھیڑیوں کے سامنے پھانسی لے لوں ، بے روزگار ہوجاوں ، کیوں کہ جو جاب دے گا ، وہ بھی کام بھی لے اور گڑیاوں کا کام نہ جاب کرنا ہے نہ کام لینا ہے بلکہ ان کے لیے تو کام کیا جاتاہے ۔۔پھر اگر جاب صحیح ہے تو ترقی کی دوڑ آگے نکلنے کے چکر میں منہ کہ بل گرنے کا ڈر ، بالوں میں آتے سفید بال آنکھوں کے نیچے پڑتے حلقے ، گڑیا تو نیچرلی خوبصورت ہوتی ہے ۔ کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی فیکٹری سے سرخی لگی ہوئی آئی تو قبر تک جائے گی ۔۔ کوئی ایسے نہیں کرنا پڑتا کہ بجھے ہوئے بوسیدہ ارمانوں پر غازے اور سرخی کا لیپ کر کے دوبارہ سے چھ بائی چھ کے کیوبکل میں جا کر سج جاو ، گڑیوں کو تو سجنا بھی نہیں پڑتا انھیں تو ان کا مالک ، ان کا باس ان کا فیملی میمبر اپنے ہاتھوں سے سجاتا ہے ۔۔ اور یہاں آپ سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے کر بھی ہاتھوں ہاتھ نہیں لیے جاتے ۔۔کبھی سوچیں ایسا کیوں ۔۔ آپ بھی کچھ سوچیں ۔ میں ذرا یہ سوچ لوں کہ یہ انٹرنیٹ ایک دم سے بند کیوں ہوگیا۔۔اوہ ہاں گڈوں کو تو یہ فکر بھی نہیں ہوتی کہ گھر پر نیٹ کون سا لگا ہے ۔ اور اگر بند ہوا تو میری تو ایسی یا ویسی ، آپ کا کیا ہوگا جناب عالی ۔۔نیٹ نے پھر اپنی ۔۔ مروا۔۔۔ چلیں چھوڑیں میں کوئی گڈا تھوڑی ہوں جو آپ میری ہر بات اگنور کردیں گے ۔۔ پھر کبھی لکھوں گا اس پر کہ ہم لوگ گڈے اور گڑیا ہوتے تو اور کیا کیا ہو سکتا تھا۔۔ سوائے رومانس وغیرہ کے ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.