پوسٹ – 2016-01-06

قاضی صاحب آپ یاد آتے ہیں۔ nnرات تقریبا تین بجے موبائل کی اسکرین روشن ہوگئی میں خوش ہوگیا کہ چلو لوٹ کے بدھو گھر کو آئی ۔ بریک اپ کے بعد صلح کے سارے گانے ایک دم سے ذہن میں آگئے ۔۔ بے معنی سے الفاظ میں گنگنانے ہوئے میں نے ایس ایم ایس پڑھا تو دل نے ایک دھڑکن مس کرد دی اس لیے نہیں کہ میں کوئی بڑا مذہبی یا سیاسی بندہ ہوں ، اس لیے بھی نہیں کہ قاضی صاحب سے میرا کوئی تعلق ہے ۔ کہاں ذرہ کہاں آفتاب ، کہاں تین پہیوں والی سائیکل کہاں نظریاتی کہکشاوں کا سب سے روشن ستارہ ، بس ایک چھوٹا سا واقعہ ہے جو یاد آگیا قاضی حسین احمد کے انتقال کی خبر سن کر۔ ورنہ الفاظ ہیں کے بھاگے جا رہے ہیں ، دل ہے کہ بیٹھا جا رہا ہے ۔۔ نظروں کے سامنے وہ واقعہ بار بار آرہا ہے۔
کراچی جیسے سیاسی شعور رکھنے والے شہر میں میں ہمیشہ سے سیاست سے دور بھاگا کرتا ہوں گھر کی صفائی میں ہاتھ کون گندے کرے ، nاس لیے تمام سیاست دانوں بشمول قاضی صاحب ایک ہی لاٹھی سے ہانکا کرتا تھا ۔ طنز کی لاٹھی ، 2007 تک میں بھی ایسا ہی تھا ۔ سب چور ہیں ، سب آرمی کی بی ٹیم ہیں ، سب کھانے پینے کی سیاست کرتے ہیں ، سب موروثی ہیں ، سب طفیلیئے ہیں ، دینی جماعتوں سے بد ظن ہونے کی وجہ ان کے پیٹ اور اپنے مریدوں کے درمیان خدا بن بیٹھنے کی بیماری تھی ، nلبرل لوگوں کی منافقت سے چڑ آتی تھی ، بولنے پر آتا تو سب کو رگڑ دیتا تھا ، اس بکواس میں قاضی صاحب کو بھی کافی بار غائبانہ صلواتیں سنادیں ، وجہ ۔۔ وجہ میرے ایک “منافقت” سے بھرپور دوست کا میرے کان بھرنا تھا۔۔ خود مجھے نہ اخبار کا شوق تھا نہ ٹی وی کیبل وغیرہ ۔ اس لیے تحقیق کی عادت بھی نہیں تھی ، جو وہ کہتا یقین کر لیتا۔ اس نے کہا قاضی صاحب کی بیٹی مشی گن یونی ورسٹی میں پڑھتی ہے اور یہ لوگ امریکہ کے مخالف بنے پھر تے ہیں ہیں میں نے آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا ۔ اس نے کہا جماعت ڈالرز پر پلتی ہے ، آرمی کی بی ٹیم ہے میں ایمان لے آیا۔ ایسے ایسے واہیات نعرے لگاتا ہنسی اڑاتا دوستوں میں بیٹھ کر کہ اب سوچتا ہوں کیا دور تھا وہ بھی، nپھر کچھ عرصے بعد لکھنے کی طرف آیا تو تحقیق کی حس ابھری ہر طرح کی پارٹیز میں دوست احباب بنے ۔ کیوں کہ پارٹی بازی اور سیاست سے زیادہ انسان کی اہمیت ہوتی ہے کم از کم میرے لیے ۔۔ شدید مخالفت ہوگی لیکن دشمنی نہیں اسی طرح جماعت اسلامی کے کچھ دوستوں کے ساتھ منصورہ جانے کا موقع ملا۔ گیا تو گھومنے تھا لیکن ایک خواہش ابھری کے قاضی صاحب سے ایک بار ہاتھ ملاوں یا گلے ملوں اتفاق سے جمعے کی نماز میں ان سے ملاقات ہوئی سفید شلوار سوٹ پر بلیک واسکٹ اپنے مخصوص حلیے میں وہ پیکر نور اترا اور عام لوگوں میں سادگی کے ساتھ بیٹھ کر خطبہ جمعہ سننے لگا ، جمعے کی نماز کے بعد عام لوگوں سے بغیر جھجھکے یا پروٹوکول کی فوں فاں میں پڑے بغیر ہاتھ ملانے لگے ۔ راستہ بنا کر میں بھی قریب ہوگیا اور ہاتھ ملا کر مڑنے لگا کے اچانک جیسے خود بخود واپس ان کی طرف رخ کیا اور روبوٹ کی طرح بولنے لگا۔n” قاضی صاحب جانے انجانے میں میں نے آپ کو نا معلوم کیا کیا بول دیا ، آج ان سب کے سامنے آپ سے معافی مانگتا ہوں اور شرمندہ ہوں ۔۔” nیہ الفاظ کہتے ہوئے میری نظریں نیچی تھیں شرمندگی کی وجہ سے ۔۔ قاضی صاحب نے سر پر ہاتھ رکھا اور گلے لگا لیا ۔۔ گلاب کی خوشبو بھرے گلابی لہجے میں کہنے لگےn “بیٹا میں نے آپ کو معاف کیا دل سے معاف کیا۔۔ انسان ناسمجھی میں ایسی حرکتیں کر جاتا ہے ۔ اللہ بھی آپ کو معاف کرے”nمیرا ضمیر کافی پرسکون ہوگیا۔۔ جماعت اور ان کے لوگوں سے اختلاف کے باوجود آج بھی قاضی صاحب کے وہ الفاظ مجھے ان کی یاد دلاتے ہیں ورنہ میں جس شہر کا باسی ہوں ، یہاں تو غداری کی سزا موت ہے اور توہین عدالت یا رسالت ہو تو ہو لیکن کسی پارٹی لیڈر کی توہین ہوگئی تو اس کی سزا پورا شہر بھگتتاہے ۔۔ ایک وہ تھے کہ جن کے سامنے کھڑے ہو کر اعتراف کیا اور انہوں نے گلے لگا لیا کوئی اور ہوتا تو شاید گلا دبا دیتا۔
بس مجھے اور کچھ نہیں کہنا۔ nپروفیسر غفور احمد اور قاضی حسین احمد اللہ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور ان کے درجات بلند فرمائے آمین ۔nn–

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.