پوسٹ – 2016-01-17

یار ایک کپ چائے تو بنا دو ۔nnمیدان لاشوں سے اٹا پڑا تھا ، چھ مہینے تک لگا ا تار جاری رہنے والی جنگ کا ایک مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا تھا دشمن کے جسم سے نکلا ہوا خون فتح کا اعلان تھا ، ایسا نہین تھا کہ دونوں حریف برابر تھے لیکن طاقت کا توازن کچھ اس طرح تھا کہ طاقت ور کے پاس ہتھیار تھا لیکن تعداد کم تھی ۔۔ اور دشمن ہزاروں کی تعداد میں تھے لیکن تعداد سے بھی کہیں جنگیں جیتی جاتی ہیں ۔۔؟ سو ہتھیار بند حریف کا جذبہ غالب آیا اور اس نے دشمن کی کمین گاہوں پر ہلہ بول دیا۔، انھوں نے اس بار ایک نئی حکمت عملی اپنائی ، چونکہ کمزور دشمن تعداد میں بہت زیادہ تھا اس لیے ایک ساتھ اس پر توجہ ، طاقت اور ہتھیار مرکوز رکھنا ممکن نہ تھا۔ طاقتور نے دماغ لڑایا اور اس بار دشمن کے گھر جا کر للکارا۔۔ کہنے کو یہ ایک بے وقوفانہ حرکت تھی لیکن یہاں بات زندگی موت کی تھی ۔۔ اگر دشمن جیتا تو اس کی جیت طاقتور کے پورے خانوادے پر اثر انداز ہوتی ۔۔ اس لیے مارو یا مرجاو کی حکمت عملی اپنائی گئی ۔۔ دشمن کو دشمن کے گھر میں گھیر کر مارنا۔۔ جنگ کی تیاریاں دونوں طرف سے عروج پر تھین۔۔ دشمن کمین گاہ میں چھپ کر بیٹھا تھا اور کبھی رات تو کبھی دن میں بغیر کسی قاعدے کے وار کرتا۔۔ لیکن اس بار دوسری طرف سے بھی ٹھن چکی تھی ۔۔ طے یہ ہوا کہ دشمن کے ہیڈ کوارٹرکے گرد ایک زہر بھری باڑھ بچھائی جائے ۔۔ اس کے بعد ان کو ہنکارہ ددے کر للکارا جائے ۔۔ دشمن لامحالہ ۔۔ بھاگے گا۔ اور جب بھاگے گا تو اس پر زہریلے بارود کا اثر ہوگاجو طاقتور کے جانباز پہلے ہی فضاوں میں انڈِیل چکے تھے ۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اپنا چہر ہ چھپانا نہ بھولے تھے ورنہ زہر کون سا کسی کا دوست ہوتا ہے ۔۔ تو بس یہی ہوا۔۔ اورکمزور دشمن نے گھبراہٹ میں آکر ۔ ہیڈکوارٹر سے باہر کی طرف بھاگنا شروع کی جہاں زدو اثر زہریلی گیس پہلے ہی موت بن کر منڈلا رہی تھی۔۔ واقعی ہجوم میں سر تو بہت ہوتے ہیں لیکن عقل بالکل نہیں تقریبا ایک سے دو گھنٹے میں دشمن ایڑیاں رگڑ رگڑ کر انجام کو پہنچا۔۔ یہ دشمن کے بڑے بڑے کمانڈر تھے ۔۔ جو چھوٹے سپاہیوں کو پال پوس کر میدان میں دھکیل دیا کرتے تھے ۔۔ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ۔۔ لیکن ایک بڑا حصہ ملیامیٹ ہونے کے بعد امید تھی کہ دشمن اب کمین گاہوں سے نکلنے میں کم از کم ایک ہفتہ تو لے گا ۔ تاکہ گیس کا اثر ختم ہوجائے ۔۔یہ سوچ کر اس نے اپنے سر سے پلاسٹک کی وہ تھیلی اتاری ۔۔ بالوں کو اچھی طرح دھویا تاکہ coopex powderکا اثر زائل ہوجائے ، اور باتھ روم کے فرش پر دور تک پھیلی ہوئی موٹی موٹی مردہ جوئوں کی طرف ایک زہریلی ہنسی اچھالتا ہوا۔۔ نہانے لگا۔۔ جووں کے مردہ جسم اب نالی کی طرف رواں دواں تھے ۔ شیمپو لگے بالوں سے ڈھکے دماغ میں آئندہ کے لیے آنے والے جووں کے بچوں کے بارے میں سوچنے لگا جو اس کے بالوں میں چپکے کسی مناسب وقت کے انتظار میں تھے ۔ اس نے نہانے کے بعد تولیے سے جسم کو خشک کیا اور ایک سکون کی سانس لے کر۔۔ باہر نکلا اور زور سے آواز لگائی ۔۔” یار ایک کپ چائے تو بنا دو۔ بڑی سردی لگ رہی ہے “۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.