واہ سائیں واہ nnواہ سائیں واہ ۔۔ کیا گیم کیا ہے اپنی مخلوق کے ساتھ تم نے ۔۔ کیا بات ہے ۔۔ مان گئے بھئی ۔۔ پہلے بھی مانتے تھے لیکن جیسے جیسے جانتے اور پہچانتے جار ہے ہیں ۔ مزا آرہا ہے ۔ سمجھ آرہا ہے ۔۔ لیکن سر جی زیادہ نہیں سمجھا دینا۔۔ ننگا ہو کر جنگلوں میں نہیں نکلوا دینا ۔۔ اور نہ ہی ہرے کپڑے پہن کر مزار پر دھمال ڈالنے ہیں ۔ ویسے اعتراض تو اس پر بھی نہیں ۔۔ لیکن یار کچھ آسرا کر لو نا۔۔ آگے پیچھے رونے والے لوگ بھی تم نے ہی دئیے ہیں ۔۔ ان کی صحت کی دعا بھی تم ہی جاری کرواتے ہو۔۔ تو خیر۔۔ مدعا کچھ اور ہے ۔۔ وہ یہ کہ۔۔ یہ چھوٹی سی دماغ نامی ہارڈ ڈسک میں تم نے جو window 10 اپ گریڈ کی ہے ۔۔ ا س کی وجہ سے ڈر یہ ہے کہ ہارڈ ڈسک کریش نہ ہوجائے ۔ کیوں کہ ۔۔ وائرس بہت تھے پہلے سے ۔۔ نظروں کا ، ٹھرک کا۔۔ گالیوں کا۔۔ بغیرتی کا۔۔ کمینگی کا۔۔ لیکن تم بھی عجیب نکلے ۔۔ اوہ عجیب نہیں بلکہ واقعی کیا بات ہے ۔۔ تم نے ان وائرس کو اینٹی وائرس بنا دیا ہے لگتا ہے ۔۔ کہ پہلے اس کو کرنے دو جو کرتا ہے ۔۔ جب کر کر کہ تھک جائے گا تو گھوڑا تو پھر بھی گردن سے آگے نہیں نکلے گا۔ اور نکلا تو مرے گا۔ کبھی بائیک گیس کے سلینڈر میں ٹھکے گی ، کبھی کوئی نیچے آتے آتے بچے گا۔ کبھی ہلکی پھلکی خراش۔۔ آسرا تو تم کرتے ہی نہیں۔۔ ادھار تو تم رکھتے ہی نہیں ۔۔ جب کوئی کمینگی ہوتی ہے یا کی جاتی ہے ۔۔ جس میں تم سے پناہ طلب نہیں کی تم کچھ نہ سہی ۔۔تو ایک فارمی انڈے کو کھڑا کر کے ۔۔ چالان کروادیتے ہو۔ تم کو بھی پتا ہوتا۔۔ کہ شناختی کارڈ ، لائیسنس ، وغیرہ کا فرق تو پڑنا نہیں ۔ لیکن ۔۔ تم نے احساس دلانا ہوتا ہے ۔۔ کہ بیٹا یہ جو تو فلانی کمینگی کر کے آیا ہے نا یہ اس وجہ سے ہوا ہے ۔۔ تھوڑا اگنور کر دیا کرو بھائی جی ۔ میرے پہ ہی سیٹلائٹ رکھ کے بیٹھے ہو۔۔۔ چلو سہی ہے ۔ کرلو تم بھی خوش ہو جائو تم خوش تو میں بھی خوش۔ لیکن یہ کیا سین کیا ہے ۔۔ ؟ ایک نیا ٹوئسٹ ۔۔ فلاسفی ۔۔ کھوپڑی کھول قسم کا فلسفہ ۔۔ کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی۔ لوگوں سے کاٹتے جا رہے ہو۔۔ لوگوں کو بھیجتے جا رہے ہو۔۔ بحرحال مدعا یہ ہے کہ ۔۔ تم نےتو خود ٹھیکا لیا ہے سب کو جہنم سے بچا کر جنت میں ڈالنے کا۔۔ ہے نا۔۔ ہے نا۔۔ وہ کیسے ۔۔ ہم ہم مسکرارہے ہو تم آئی نو۔۔ کیسے پتہ ۔ ؟ ارے خود تو جگہ جگہ پاک کلام میں لکھا ہے ۔۔ کہ رحمت غضب پہ غالب ہے ۔۔ ستر ماوں جتنا پیار۔۔ اب سمجھ آئی تم نے ۔ تو اپنے ان کھلونوں کو جنھیں تم انسان کہتے ہو۔۔ گناہ کی طاقت کیا اوقات تک نہیں دی ۔۔ ۔ سوچ دی ہے ۔۔ عمل کرنے کی اوقات ایک حد سے زیادہ نہیں اب ذرا یہ بتا دو میری جان ۔۔ کہ چلو چھوڑو پھر کسی دن پوچھوں گا۔۔ تم اپنے کام کرو ۔ میں ذرا اپنے کام نمٹا لوں۔۔ پھر بات کریں گے ۔۔

اترك رد