پوسٹ – 2016-03-12

سبزی منڈی کی بھکارن – صحفہ ۲nnارباز کا پورا دن کلاس میں بھکارن کے بارے میں سوچتے ہوئے گزرا۔۔۔ ارباز کے کلاس فیلوز بھِی حیران تھے کہ یہ اتنا چپ چپ کیوں ہے، انوشے نے پوچھا بھِی تو ارباز ٹال گیا ۔۔ لیکن کچھ تھا ضرور جو جو سب نے محسوس کیا۔۔ ارباز نے لنچ وغیرہ بھی گول کردیا۔۔ وجہ پوچھنے پر کہہ دیا پیٹ خراب ہے ۔ لیکن اسے معلوم تھا کہ اس کا پیٹ نہیں بلکہ دماغ کا ہاضمہ خراب ہوگیا ہے ۔۔ اور خرابی کی بڑی وجہ ۔۔وہ بڑی بڑِی آنکھوں والی جوان بھکارن ہی نہیں تھِی بالکل اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ کہ ایسا کیا تھا اس بوسیدہ سی بھکارن کے چہرے میں جو اس کے دماغ میں اٹک کے رہ گیا تھا۔۔ بڑی آنکھیں تو انوشے کی بھی تھیں ۔۔ وہ خیالوں میں بھکارن کے وجود کے زینے اترنے لگا۔۔گندے سندے بال ، چیکٹ ، لیکن ایسا لگتا تھا۔ کہ خوب گھنے ہیں ۔۔ اسی لیے اتنے غلیظ ۔۔ لٹوں کی جگہ جٹائیں سی محسوس ہوتی تھیں۔۔ پھر وہ بڑی سی آنکھیں ۔۔ ناک کو ستواں تو نہیں کہا جا سکتا لیکن لیکن کچھ ایسا تھا جیسے اہرام مصر ڈھے رہا ہو۔۔ یعنی نرم سی تکون ۔۔ لعاب میں لتھڑے ہونٹ ۔۔ آخ تھو ۔۔ اسے گھن سی آگئی ۔۔ چہرے کے آخری زینے پر اس کی تھوڑی کا گڑھا تھا۔۔ جس پر مدھم سے تین نقطے تھے جیسے کیلاش کے باسی بنا لیا کرتے ہیں ۔۔ ارباز کے دماغ میں شاید اس گڑھے کا خلا اٹک گیا تھا۔۔ n”ارباز ۔۔ کیا ہوگیا ہے ۔ ایسے کیا گھور رہے ہو۔۔” دفعتا اسے احساس ہوا ۔۔ کہ وہ اس بھکارن کو بے اختیار انوشے کے چہرے میں کھوج کر موازنہ کر رہا تھا۔۔” نہیں نہیں کچھ نہیں وہ بھکارن۔۔ مم میں وہ کچھ نہیں ۔۔”n” ارے کیا ہوا ہے ۔ کون بھکارن ۔۔ کچھ بولو تو سہی ۔۔ “nانوشے اس کی کہانی کی ہیروئین نہیں تھی لیکن وہ سمجھتی ایسا ہی تھی ۔۔ ارباز کو لگتا تھا کہ یہ سائڈ ہیروئن ہے بس۔۔ لیکن وہ خود بھی ہیرو کہاں تھا ۔۔ ؟ ہیرو کہاں تھا ؟ کون تھا۔۔ یہ تو ہیروئین بتائے گی ۔۔ تو ہیروئن کون تھی ۔۔ انوشے یا وہ گدرائے ہو ئے بدن والی ۔۔ گندے پھٹے ہوئے کپڑوں والی ۔۔ سبزی منڈی کی جوان بھکارن۔۔۔” چلو ارباز۔۔ سامنے ہاسپٹل ہے ۔۔ وہاں تمھارا چیک اپ ہونا چاہئے ۔۔ سومرو ، فاطمہ ، اویس۔۔ آجاو دیکھو ذرا لگتا ہے اس کو بخار ہو گیا ہے ۔۔” انوشے نے ہانک لگا دی ۔۔ سومرو اپنی لش لش کرتی گاڑی پارکنگ میں لے آیا۔۔ آگے کیا ہونا تھا ؟ یہ نہ ارباز جانتا تھا۔ نہ اس کے دوست۔۔ کیوں کہ ۔۔ کہانی اب تک اس بھکارن کی ٹھوڑی کے گڑھے پر پڑے ہوئے تین نقطوں کی طرح مدھم تھی یہ ابہام ۔۔ان سب کا امتحان بننے والا۔تھا۔۔
ہسپتال کے کونے پر بنے ہوئے خیراتی ادارے کے سامنے بیٹھی وہ جوان بھکارن ، نجانے کیوں رونے لگی ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.