پوسٹ – 2016-03-15

سبزی منڈی کی بھکارن – صحفہ ۴nnگاڑی ستر کی سپیڈ پر تھی اور ارباز کے دل کی سوئی بہتر سے سو کے بیچ ڈگمگا رہی تھی ۔۔ گنجان آبادی سے نکلنے سے پہلے اس کو فیصلہ کرنا تھا کہ اس شیکسپئر کی مثال دینے والی بھکارن کا کیا کرنا ہے ۔۔ سڑک ناہموار تھی ۔۔ لیکن گڑھے ارباز کی زبان پر پڑ رہے تھے ۔ دھچکے اس کا ذہن کھا رہا تھا۔۔ ایک طرف وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ کیا معما ہے دوسری طرف وہ بھاگنا چاہتا تھا۔۔” چھوڑو بھئی مجھے کیا “کہہ کر دور چلا جانا چاہتا ۔۔ لیکن اس کے لیے گاڑی روکنی پڑتی ۔ واہمے تھے کہ مناظر کی طرح ایک ایک کر کے پیچھے نکلتے جارہے تھے ۔ لیاری ریور بریج پر پہنچ کر اس نے گاڑی ایک طرف روکی ۔۔ سگریٹ منہ میں دابی ۔۔ گاڑی کا بونٹ اٹھایا ۔ اور بھکارن والی سائڈ پر آکر یوں کھڑا ہوگیا۔ جیسے اس سے پانی کی بوتل مانگ رہاہو۔ بھکارن کے ہونٹوں پر حیرت ہنس رہی تھی ۔۔ ارباز نے ایک گہرا کش لیا اندیشوں کو پل سے نیچے پھینکا اور کہا۔۔ “کون ہو تم ۔۔اور یہ شیکسپئر کو کیسے جانتی ہو۔۔” بھکارن کے چیکٹ بال بھی اب ہنس رہے تھے ۔۔ اس نے جوابی سوال کیا۔۔” تم کیا سمجھ کے لے کر جا رہے تھے مجھے اور کہاں لے کر جا رہے اور کیا شیکسپئر پر صرف تمھارا کاپی رائٹ ہے ۔۔ ؟ ؟” ۔۔کاپی رائٹ۔۔ جھنجھلا کر اس نے سگریٹ مسلی اور دروازہ کھولا۔۔ اور کہا” نکلو باہر اور دفع ہوجاو۔۔ یا مجھے بتاو کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔ تم یہ سب کیسے بول سکتی ہو۔۔ تم تو ایک بھکارن بلکہ شاید۔۔ پیشہ ور ہو۔۔ ” ارباز نے جسم فروش کا لفظ جان بوجھ کے استعمال نہیں کیا تھا۔ بھکارن ابھِی تک تمکنت سے سیٹ پر سجی ہوئِ تھی۔۔ پھٹا ہوا دوپٹہ اس نے سینے پر پھیلا دیا۔۔ ارباز نے نوٹ نہیں کیا تھا کہ بھکارن نہیں لیکن پیشہ ور کے الفاظ پر اس کے میلے سے چہرے پر چیخ سی ابھری تھی ب”بابو ۔۔ یہ تو بتا۔ تو مجھے کیا سمجھ کر اور کہاں لے کر جا ررہا تھا۔۔؟”
مم مم ۔۔” بیسٹ ڈی بیٹر آف ڈیپارٹمنٹ کے الفاظ گرتے پڑتے بھی منہ سے نہیں نکل پا رہے تھے ۔ زبان میں لکنت آگئی ۔۔ ” لو دیکھوپیشہ ور میں ہوں اور زبان تیری لڑکھڑا رہی ہے ۔۔ لا ایک سگریٹ دے کرتی ہوں تیری تسلی اور تیرے سوالوں کا جواب دیتی ہوں۔۔ لا دے نا۔ کون سی ہے مالبرو یا گولڈلیف۔۔” آنے والا ہر ہر جھونکا۔ ارباز کے لیے حیرت لیے ہوئے تھا۔ لیاری ندی کی بدبو کہیں پیچھے رہ گئی تھی ۔ فضا میں سیلن سی حیرت تھی ۔۔ بھکارن، شیکسپئر ، کاپی رائٹ ، اور اب سگریٹ کی مقبول برانڈز کے نام۔ اب جان جائے یا جان میں جان آئے میں اس مچھلی جیسی عورت کو دوبارہ پانی میں ڈال کے رہوں گا۔ یہ تجسس یہ حیرت یہ سب آج دفن کر کے رہوں گا۔| یہ لو سگریٹ اور بتاو مجھے کہ تم کون ہو۔؟”بھکارن اب تھوڑی گم صم نظر آرہی تھی ۔۔ شاید ڈبکیاں لگا لگا کر سانسیں اتھل پتھل ہوگئیں تھیں۔۔ ماضی کے کیچڑ سے باہر آئی ۔۔ کال سینٹر والی لڑکیوں کی طرح سگریٹ سلگائی ۔۔ اور دو تین گہرے کش لینے کے بعد کہا”ساری یہیں سنے گا۔ چل جہاں لے کر جا رہا تھا۔۔وہیں چل ۔۔ آرام سے سناتی ہوں ۔۔ “

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.