پوسٹ – 2016-03-28

پرانا محاورہ : جیسا منہ ویسا تھپڑ
نیا محاورہ : جیسا منہ اس سے زیادہ بڑا اور زور کا تھپڑnnاس محاورے کا اطلاق مندرجہ ذیل افراد پر ہوتا ہےnnڈبل گیم کرنے والے کولیگز اور باسز۔ nnڈیڑھ ہوشیاریاں و فنکاریاں کرنے والے رشتے دار اور دوست ، احباب۔nnعورت کی عزت کرو کا منجن بیچ کر لڑکیاں پٹانے والے ، بہنوں میں پل کر جوان ہونے والے بھائی۔ nnحقوق نسواں کی ، طلاق یافتہ یا بریک اپ شدہ خواتین اور شوہر پر مرضی نہ چلا سکنے والی بیگمات ۔nnنوٹ: احادیث اور حقوق ہمسائیگی وہ رشتے دار پر مبنی قرانی آیت کی چھابڑی لگانے والے مذہبی تنظیموں کے ڈاڑھی والے فرشتے اور بے پر کی حوریں ۔ اس پوسٹ سے دور رہیں ۔۔ورنہ اسلامی پچ پر ہی بولڈ کیا جائے گا ویسے ایسے افراد پر ایک مثال صادق آتی ہے ۔۔ “دنیا کی سب سے مہنگی لکڑی ۔۔ پڑی ہوئی لکڑی ہوتی ہے “۔ خیال رہے یہاں پورا شہتیر ہے ۔۔ اور خصوصا ایسے لوگوں کے لیے جن کی آنکھ میں ان کا اپنا ہی بال ہو۔۔ ان افراد کی تسلی بخش چھترول نیز پارسل کا خاص انتظام بھی موجود ہے ۔ خواتین کا راستہ عقبی گلی کے بجائے ۔ اسی وال پر ہے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.