پوسٹ – 2016-04-02

سبزی منڈی کی بھکارن – صحفہ ۹nn نسوانیت کے سارے ہتھیاروں سے لیس۔ لیکن ۔ گولیاں ربڑ کی ۔۔ بارود گیلا۔۔ جو جل نہ سکے ۔۔ کس کام کی میں ؟ پھر کچھ مزاج کی خاموشی ۔ الگ تھلگ رہنا فاصلوں کا باعث بن رہا تھا۔ ٹھک ٹھک ۔۔ ارباز۔ اندر تو ہے ۔۔ ؟یہ ارباز کا دوست راشد تھا جو آج شاید جلدی گھر آگیا تھا۔۔nnگزشتہ سے پیوستہ۔۔nnجلدی کام شیطان کا ہوتا ہے ۔۔ یہ آج کسی اور طرح سمجھ میں آیا تھا یا شاید ابھی سمجھ میں آنا تھا اوہ شٹ، لگ گئے پکوڑے عزت کے ۔۔ اف۔۔ اب کیا کروں ۔۔؟”، اربا ز نے پیشانی مسلی۔ “”کرنا کیا ہے ۔ بابو۔۔ ہر شریف آدمی کی طرح شریف ہوجا۔۔ تیرا دوست ہی ہے نا۔۔ کہہ دے آج تو ذرا موڈ میں تھا۔۔اور یہ پیچھے پڑ گئی تو میں نے سوچا۔۔ چکن تکہ نہ سہی بیس روپے والی مرغی کی یخنی ہی سہی ۔۔” ارباز کے کان گرم اور لال ہوگئے لیکن بھکارن اسی طرح بیٹھی مسکرا رہی تھی۔۔ ارباز کو محسوس ہوا کے اس کے چہرے پر اضطراب کی ایک وقتی کروٹ بھی نہیں آئی ۔۔ کوئی اس منظر کو دیکھتا اوریہ بات سنتا تو اسے لگتا۔ یہ ارباز بھکارن کو نہیں بلکہ ۔۔ بھکارن ارباز کو ساتھ لے کر آئی ہے ۔۔n” تو پاگل ہوگئی ہے کیا”۔ٹھک ٹھک ۔۔ “او بھائی ارباز۔۔ کتنا بڑا فلیٹ ہے میرا۔۔ جو تو اتنا دیر سے دروازے کے نزدیک نہیں پہنچ پا رہا۔۔ سالے کہیں پھر سے پی پلا کر تو پڑا ہوا۔۔” باہر راشد جلدی میں تھا شاید۔۔ غنیمت یہ تھا کے آج وہ اپنے فلیٹ کی چابی اندر ہی بھول گیا تھا۔۔ ارباز کی موجودگی اس کے لیے نعمت اور پورے ماحول کے لیے زحمت بننے والی تھی بلکہ ارباز نہیں ۔ بھکارن کی موجودگی ۔۔ کیوں کہ ہمارے میں معاشرے میں مرد تو مجبور ہی ہوتا ہے ۔ اور عورت پروڈکٹ۔۔ اس لیے ارباز کی موجودگی عزتیں نہیں اچھالتی۔۔ بھکارن جیسی عورتیں ہی تو کلنک کا ٹیکہ ہوتی ہیں نا ۔۔ ارے چور تو پکڑا ہی گیا ہے ۔۔ اب قتل بھی سر ڈال تو بس پڑے صاحب پر چھینٹ نہ آئے والا حساب کتاب ۔۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کتنی عورتیں شریف زادوں کی حرامزادی اولادیں ہوتی ہیں ۔۔ جن کو وہ جعلی ووٹوں کی طرح ڈس اون کردیتے ہیں زمانہ موجود کی کئی فنکاراوں کا برتھ سرٹیفیکٹ دیکھ لیں ۔۔ کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی ۔۔اونچےشملے اور بڑے گھیر کی شلوار والا ہی نکلے گا۔ ۔۔ارباز نے “پینے والی بات ” پر بھکارن کی طرف دیکھا۔۔ بھکارن کی آنکھوں میں “ہنہ شریف ” لکھا ہوا تھا۔۔”تو تو ایک کام کر ۔ ادھر کہیں چھپ جا۔۔ پلیز جا جا میری عزت کا سوال ہے ۔۔ تو تو ویسے بھی ۔۔ “ارباز کچھ بولتے بولتے رکا۔۔”کہاں چھپ جاوں ؟ اس نائٹی میں ؟ بھکارن کی مسکراہٹ اب زہر خند ہو چلی تھی۔”واش روم میں چھپ جا۔۔” جا نا اب جلدی کر ارباز نے اس کو دھکیلا نیلو ا لہراتی ہوئی واش روم میں چلی گئی ۔۔ ارباز نے پھرتی سے اٹھ کر بستر پر سلوٹیں بنائیں ۔۔ جیسے وہ اس پر کروٹیں بدلتا رہا ہو۔۔ اپنے بال بکھیرے ۔۔ آواز کو بوجھل بنا کر بولا۔”آرہا ہوں یار”۔۔” او بھائی کہاں سے آرہا ہے ؟ کتنی دور سے آرہا ہے ۔۔” راشد بھی اسی کا دوست کا۔۔ اب وہ اسے زچ کرنے پر تلا ہوا تھا۔۔ ارباز نے دروازہ کھول دیا۔۔ “چل چل آگے سے ہٹ یار۔۔ میں گاڑی کے پیپرز بھول گیا تھا۔ سبزی منڈی سے آگے چیکنگ سخت ہوتی ہے ۔ سنا ہے آج کل فقیروں اور فقیرنیوں کے بھیس میں دشمن ملک کے مختلف ایجنٹ سرگرم میں ۔۔راشد نے چیزیں الٹ پلٹ کرتے ہوئے اطلاع دیاوفو کہاں چلے گئے پیپر۔۔ تو نے نہیں دیکھے ۔اوہ میں بھی کس سے پوچھ رہا ہوں۔۔ وہ انوشے کا فون آیا تھا۔۔ کہ تجھے کل یہ ہاسپٹل لے کر گئے تھے ۔۔ اور تو کچھ اول فول بھی بکتا رہا ہے ۔ ا کون سی والی پی رہا ہے ۔۔ابھی بھِی تو خمار آلود ہی لگ رہا ہے ۔۔ چکر کیا ہے دیو داس کے بچے ۔۔یہ رہے کاغذات ۔۔تم نے کروٹ لیتے ہوئے ۔۔ ہاتھ مارا ہوگا۔۔ اور گر گئےہونگے۔ اب ویسے بھی اتنا تو تمھیں جانتا ہوں کہ تمھیں اکیلے سونے کی ہی عادت ہے ۔۔” ارباز کو لگا وہ اس سے چوہے بلی کا کھیل کھیل رہا ہے ۔۔” پتا راشد کو سب ہے ۔۔ ویسے بھی شوقین مزا ج ہے ۔ کسی اپنے جیسے کو دیکھ کر تو باچھیں کھل ہی جاتی ہیں ۔۔ کیا واقعی میں اس کے جیسا ہوں ۔۔”اسے اپنے اندر سے ہنسی کی آواز آئی ۔۔ اس نے سر جھٹکا ۔۔ ارباز راشد کوچھوڑنے دروازے تک آیاراشد جاتے جاتے پھر کھڑا ہوگیا تھا۔۔ اور اسے اچھی والی پینے کی تلقین کر نے لگا”۔۔ اور ہاں بھائی اس حالت میں باہر نہیں نکلنا۔۔ جب ہوش میں آجاو تو کم از کم شاور لے لینا۔۔ وہ شیمپو۔۔۔۔۔ اندر۔۔ nشیمپو کے نام پر راشد نے جو غیر اختیار ی وقفہ لیا تھا۔۔ وہ ارباز کو موت کی ہچکی محسوس ہوا۔۔ اس کے دل نے پھر ایک بیٹ مس کردی ۔۔”ارے شیمپو کی خوشبو کیوں پھیلی ہوئی ہے ۔؟
۔وہ دو قدم آگے بڑھا اور ارباز کا منہ سونگھنے لگا۔۔ناک اٹھائی اور تھوتنی اسٹائل میں خوشبو کی سن گن لینے لگا۔۔ وہ چند لمحے ارباز کے پھیپھڑوں میں اٹک گئے تھے ۔۔ سانس تو دستک نے بند کردی تھی ۔ جان اب اس کے سوالات نے نکال دی تھی ۔۔ “انوشے کیا سوچے گی” کیا بکواس ہے ۔۔ انوشے کہاں سے آگئی ۔۔ بھکارن بیچاری کا کیا ہوگا ؟ بھکارن ؟ابے تیرا کیا ہوگا سالے۔۔”راشد اب کمرے میں چکرا رہا تھا۔۔” او بات سن بھائی تو اکیلا ہی سو رہا تھا نا ۔۔”nخاموشی کتنا بڑا زہر ہوتی ہے ۔۔ یہ تو کمرے کے سکوت سے پوچھے کوئی جس میں دو شخص موجود ہوں اور ایک کو پتا ہو کہ ہم دو نہیں تین ہیں ۔۔ ہوا میں آکسیجن شاید کم ہوگئی تھی ۔۔ شیمپو کی خوشبوراشد کے ناک اور ارباز کے گردوں میں پتھر بن کر پھنس گئی تھی ۔۔ لیکن گردے کام نہ کریں تب بھی سانس تو آتا ہے نا۔۔ یہاں سانس کیوں نہیں آرہا۔۔ بھاگتے بھاگتے جو سائیڈ پر ایک درد ہوتا ہے وہ ارباز کے اندر بگولا سا بن کے اٹھنے لگا۔۔ بے اختیار اس نے بیڈ کی سائیڈ تھام لی سر چکرا گیا۔۔ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ۔ پانی کی آواز نے رکھا۔۔ ” یہ اندر کون ہے ۔۔ پردہ اٹھنے کو تھا۔۔ راشد نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.