سبزی منڈی کی بھکارن – صحفہ ۱۰nn بھاگتے بھاگتے جو سائیڈ پر ایک درد ہوتا ہے وہ ارباز کے اندر بگولا سا بن کے اٹھنے لگا۔۔ بے اختیار اس نے بیڈ کی سائیڈ تھام لی سر چکرا گیا۔۔ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ۔ پانی کی آواز نے رکھا۔۔ ” یہ اندر کون ہے “nn پردہ اٹھنے کو تھا۔۔ راشد نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا۔۔ پانی کی آواز بند ہوگئی۔۔nnگزشتہ سے پیوستہ۔۔nnاگر وہ اندر جائے بغیر یہ بھی چیک کرلیتا کہ دروازہ اندر سے لاک ہے ۔۔ تب بھی کھیل ختم اور کہانی شروع ہوجاتی ۔۔ nارباز نے شکست تسلیم کر لی تھی ۔۔ وہ آنے والے منظر نامے کے لیے الفاظ یعنی کور اسٹوری کاشت کرنے لگا n”ڈان کا انتظار تو گیارہ ملکوں کی پولیس کر رہی ہے ۔۔ لیکن ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے”۔n”ہیں۔۔واٹ دا ایف۔۔ ؟ یہ شاہ رخ خان کمرے میں کیا کر رہا ہے ۔۔ اتنا وہم ؟”۔n ارباز نے سوچا۔۔اس نے نیم وا آنکھوں سے دیکھاکہ راشد نے ہینڈل سے ہاتھ اٹھا کر فون کان پر لگایا اور دو منٹ کسی کی بات کے جواب میں ہوں ہاں کر کرتا رہا۔۔ ڈان نے ارباز کی جان بخشی کروادی تھی لیکن شاید وقتی طور پر کیوں کہراشد
بے اختیار بات کرتا کرتا۔۔ فلیٹ سے باہر نکل کر کھڑا ہوگیا۔۔ خوشبو جہاں سے آئی تھی واپس چلی گئی تھی ۔۔ ارباز دروازے تک گیا۔۔ راشد نے کال بند کر کے جانے کے انداز میں ہاتھ ہلانے لگا اور کہا “ابے یہ کون سا فلیور پی کر آگیا۔۔سالے ۔۔ شیمپو فلیور والی کب سے آگئی مارکیٹ میں ۔۔ چل خیر ۔۔ واش روم کی ٹونٹی شاید لیک ہے ۔ شام کو دیکھوں گا آکر۔۔ یہاں تو شادی بھی نہیں اور روز نہانا پڑتا۔ ہے ہاں بھائی پتہ ہے پتہ ہے ۔۔ کنوارے نہاتے ہیں اور شادی شدہ غسل کرتے ہیں ۔۔ خیر سانوں کی ۔۔ ہم بھی تو کبھی کبھی شادی شدہ ہوہی جاتے ہیں اب تجھ سے کیا پردہ ۔۔ چل تو سوجا ۔۔ ایک کلائنٹ میٹنگ فکس ہوگئی ہے میں ذرا جناح ہاسپیٹل کی طرف جا رہا ہوں ، وہاں تھیلسیمیا کے سلسلے میں ایک ورک شاپ اٹینڈ کرنی ہے ۔۔ اور وہیں کلائنٹ سے بھی ملنا ہے ۔ تجھے تو پتا ہے ۔۔ یہ ورکشاپس میں کچھ ملے نہ ملے خوبصورت ڈاکٹرز ضرور مل جاتی ہیں ۔۔”n راشد نے ڈاڑھی کے پیچھے شکار کھیلنے والے نوسر بازوں کی طرح کہا، ویسے تو وہ کافی سے زیادہ شریف تھا یا کم از کم لگتا ضرور تھا۔۔یوں کہہ لیں جس کو موقع نہ ملے وہ شریف یا جو پکڑا جائے وہی چور لیکن ارباز کو ایسے شریف آدمی کے کرائے کے فلیٹ میں آڑو کے کلر کی نائٹی ملی تھی جو بھکارن نے پہنی ہوئی تھی ۔۔ اور وہ اندر چھپی ہوئی تھِی ۔۔ راشد کی شرافت یا شرارت ایک طرف ابھی تو ارباز اس فکر میں تھا کہ یہ جائے جلدی اور میری جان چھوڑےn ” چل جانی ۔۔ میں چلتا ہوں ۔۔ ورنہ رکتا۔۔ تیرا حال چال بھی پوچھنا ہے ۔۔ سوری یار شام میں بیٹھتے ہیں ۔۔ بائے ۔۔اور ہاں یہ نشہ پانی کم کردے تھوڑا۔۔”nnراشد نے ہمیشہ کی طرح شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنتے ہوئے کہا۔۔ جب کہ ابھی ایک منٹ پہلے وہ خود خوبصورت ڈاکٹرز کا ذکر کرکے اپنی بڑھی ہوئی شیو کھجلا رہا تھا۔۔ چہرے کی ۔۔ ارباز نے ہمیشہ اس کی ڈاڑھی کو بڑھی ہوئی شیو ہی کہا تھا۔۔ کیوں کہ ڈاڑھی سے پنگا کم از کم ارباز نہیں لے سکتا تھا۔۔ وہ جانتا تھا۔ کہ کتنا بھی کوئی بگڑ جائے سکون سنتوں میں ہی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ سنت کوکچھ لوگ اب ‘کور” کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور کچھ لوگ”گلٹ” کے طور اور جو بیچارے مخلص ہوتے ہیں وہ دھماکوں میں “خودکش” قرار پاتے ہیں ۔۔n nارباز یہ سب سوچتا ہوا ٹیڑھی آنکھوں سے راشد کو فلیٹس کے کمپاونڈ سے باہر جاتا ہوا دیکھتا رہا۔۔ جب وہ اوجھل ہوگیا تب ہی فلیٹ کا دروازہ بند کرکے پیچھے پلٹا۔۔ وہ پتھر کا ہوجاتا اگر گوشت کا انسان نہ ہوتا۔۔ اور اس کا دل اگر ناف سے نیچے نہ چلا گیا ہوتا تو وہ واقعی بت بن جاتا ۔۔
نیلو بھکارن ۔ صرف نائٹی میں کھڑی مسکرا راہی تھی ۔۔ ارباز نے نظریں چرا کر ادھر ادھر اس کا “گمشدہ” دوپٹہ دیکھنا چاہا۔ جو کچھ دیر پہلے تک بنارسی ساڑھی کی طرح اس کی نائٹی کو چھپائے ہوئے تھا۔۔ چھپا ہوا حسن شاید زیادہ مہلک ہوتا ہے کیوں کہ وہ تجسس کو جنم دیتا ہے اور تجسس کی ممانعت بھی اسی لیے ہے ۔ کہ ایسے متجسس افراد پھر معاشرے میں “ممنوعہ” قرار دے دیئے جاتے ہیں ۔۔ اس لیے شاید بھکارن نے حسن کو چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ اور اب وہ دھل کر سامنے آرہی تھی ۔۔ یہی بات ارباز کو ڈرا رہی تھی ۔۔ nn سبزی منڈی کی جوان بھکارن اور ارباز کی مدبھیڑ ابھی جاری ہے۔۔بقیہ اگلی قسط میں.
پوسٹ – 2016-04-03
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد