پوسٹ – 2016-04-06

ادھ بچھی جائے نمازnnاس کے واپس آنے کی امید تو پہلے بھی نہیں تھی ۔۔ لیکن پھر کچھ یوں ہوا۔۔ کہ وہ وجود سے ہستی بن گئی۔۔ دھواں بن کر دھند ہوگئی ۔۔ کبھی ایسا بھی تھا ۔۔ کہ اس کی مسکراہٹیں ۔ سانسیں تھیں اور اور اس کی ہنسی آکسیجن ۔ لیکن جب آخری بار اس نے پلٹ کہ نہ دیکھا۔ الوداع تک نہ کیا ۔۔ جیسے کچھ ٹوٹ سا گیا اندر۔۔ بلکہ ٹوٹا ہوا تو پہلے ہی تھا بس بکھرنا باقی تھا۔۔ آنسو ریت کی طرح اندر اڑنے لگے ۔۔ باہر ہی نہیں آتے تھے ۔۔ خشک آنسو کبھی بہتے ہیں کیا ۔۔ ایسا ہی ہوا۔ میں تو ایسی خلائی مخلوق بن کر رہ گیا۔۔ جس کو دوسرے سیار ے پر قید کردیا ہو۔۔ آکسیجن نشہ کی طرح بنی اور نشہ اس کی دوری کی دھول میں ہرن ہوگیا۔۔ جاتے قدموں ، مدھم ہوتی آوازوں ، سپاٹ مسکراہٹوں کے ہجوم میں تو ڈوبتا سورج بن گیا شام کے وقت کا سورج ۔۔۔کانچ جیسی تھی وہ ۔۔ ٹوٹنے کی جلدی رہتی تھی ۔۔ میں سنبھالنے کی دھن میں بھول گیا۔۔ کہ ٹوٹنے سے بچاتے بچتے ہاتھ زخمی کر بیٹھا۔۔ رشتے میں ٹوٹنے کی وجہ سے بال تو آنا تھا۔۔ تو کیا میں نے اس کو بکھرنے سے بچانے کے چکر میں اپنا آپ کا بکھیر کر رکھ دیا۔۔ وقت نے مجھ اڑا کر رکھ دیا، مجھے تو پتاہی نہ چلا کہ میں لمحوں میں جیتا رہا اور وہ حال بے حال کرتی رہی ۔۔ سوچتا تھا کہ پوجے جانے کے لائق تو تھی ہی لیکن کیا فائد ہ چرنوں میں بیٹھا رہ گیا ۔۔ کہتی تھی ۔ پانا چاہتے ہو تو طلب کرو۔ چاہ کر۔۔ التجاہ کرو۔۔ سچے رب سے ۔۔ میں گھومتا۔۔مڑتا۔۔ مسکراتا ۔۔ کہتا۔ کیوں ؟ میں ہی کیوں طلب کروں ۔۔ ہماری اناوں کے بیچ ہمارے جذبات سر نیہوڑائے سو رہے تھے یا شاید رو رہے تھا۔ پتا ہے ان دنوں میں روحانیت کے ا س مدارکا دم دار ستارہ بن گیا تھا۔۔ جو غلطی سے ٹوٹ کر کرہ ہوائی سے رگڑ کھا آسمان میں چکراتا رہ ہے ۔۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اس کو دیکھ کر دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔۔ لیکن وہ ستارہ تو دعا کا ہی استعارہ ہوتا ہے ۔۔ اسے تو خود ضرورت ہوتی ہے ۔۔کسی کی چاہ کی ۔۔ بس تو میں روحانیت کے گرد گھومنے لگا۔۔ ایسا کنکشن بن گیا۔۔ کہ میرےاور اس کے درمیان بس ایک جا ئے نماز جتنا فاصلہ رہ گیا۔۔ بس بچھائی نہیں ۔۔ کیوں بچھاتا ؟؟ طلب مجھے ہی تھی ؟ میری اس کی دعا کیوں نہیں بن سکی ؟ کیا میں اس کا فرض تھا یا وہ میری مستحب ۔۔یا اس کا الٹ بلکہ اس نے تو شاید قضا کردیا ۔۔اور کفارہ ۔۔۔ ؟ ہنہ نومسلم بھی کفارہ دیا کرتے ہیں ؟ بھول گئی ہوگی ۔۔ یہیں یہ طوطا مینا کی کہانی روکنی پڑے گی ۔۔ وجہ کچھ نہیں بس۔۔ منزلیں ناراض ہو جائیں گے نا اور وہ تو اب سر راہ بھی نہ ملے، راہ ہی کھوٹی ہوگئی ۔۔ منزلیں رسوا ہوگئیں ۔ ۔ کیسے ملے گی ۔ میں تو ادھ بچھی جائے نماز کے کونے پر گرا ہوادمدار ستارہ بن کے رہ گیا اور اس نے سجدہ سہو بھی نہ کیا۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.