پوسٹ – 2016-12-08

ہماری ناکامی اور ذلت کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ کام کی ساری کتابیں باتیں یا تو عربی میں ہیں یا انگریزی میں ۔اب کوئی عربی سیکھے تو القائدہ کا دہشت گرد کہلاتا ہے ، اور انگریزی سیکھے تو غدار اور لبرل کی تہمت سہتا ہے ۔۔ ترقی کیا خاک کرنی ہے ہم نے ؟؟ ہمیں ایک دوسرے کی اردو ہی بمشکل سمجھ آتی ہے ۔۔ تو جو عظیم ادب عربی ، فارسی اور انگریزی میں چھپا ہے ۔۔ چاہے وہ سائنسی ہو یا منطقی ۔۔ اس سے فیض کون اٹھائے اور کیسے اٹھائے ۔ ؟اور تو اور کیوں اٹھائے ؟ ہمارے پاس کرنے کے اور کام جو بہت ہیں ۔ مثلا نو سے پانچ وائٹ کالر غلامی کرنا۔۔ اور اگر وقت بچ جائے تو اپنی اپنی پارٹی کے لیے ووٹ مانگناا کبھی تبدیلی کا کشکول پھیلا کر کبھی مذہب کو بکرا بنا کر اور اس پر مستزاد یہ کہ ہم باتیں کرتے ہیں کہ ہم نے دنیا فتح کرنی ہے ، پنگا لیتے ہیں ایران ، انڈیا یا امریکہ سے ۔ جہاں زیادہ تر لوئر مڈل کلاس حکومت میں رہے ہیں اور اب بھی ہیں ۔ ان ممالک کا مقابلہ ہم صرف کچھ میدانوں میں کرتے ہیں وہ بھی مکمل تعصب کے ساتھ ۔ یا تو کرکٹ یا پھر فلم انڈسٹری ، جن کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں لیکن پھر بھِی ہم صرف ذلیل و خوار ہی ہوتے ہیں مثال کے طور پر ورلڈ کپ ۔ اور باقی انڈسٹریز جائیں بھاڑ میں ہم یہ مقابلہ نہیں کریں گے کہ ہمارا چائے والا پٹھان بھی کبھی وزیر بن جائے یا اکثریت پر اثر انداز ہو کیوں کہ ہمارے ہاں زیادہ تر لوئر مڈل کلاس یا تو ٹارگٹ کلر بن جاتا ہے یا پھر گٹکا خور۔ [براہ مہربانی سراج الحق کا مڈل کلاس ہونا مت بیچئے گا اس پوسٹ پر] ۔ خیر تو اس سب تگڑم کی وجہ یہ ہے کہ ؟ ۔ہمیں منزل چاہئے ہی نہیں ۔اور جو چاہئے وہ ٹے لی فون کے ذریعے یا وال چاکنگ کے ذریعے تو ملنے سے رہا-یہ تو ہوا سبب ۔۔ آپ آئیے حل کی طرف۔ حل سادہ ہے ۔ایسے منافق اور ان کی منافقت سے پیچھا چھڑاواور تعلیم کو فروغ دیں، ہر مسئلے کے ساتھ حل بیان کرنا سیکھئے اگر مگر چونکہ چناچہ کہ بجاِئے عملی کام کی طرف آئیے۔ سپورٹ گروپس بنائیں ، کارنر میٹنگ[ بغیر کسی سیاسی وابستگی کے ] کا رجحان بڑھائیں ، اپنی ذات سے شروع کرکے محلے کی سطح اور محلے کی سطح سے بڑھ کر ادارے کی سطح پر آئیں ، پیسہ اور لیڈر شپ یا پھر شہرت اس کے لیے کام نہ کریں صرف بے غرضی کے ساتھ نتائج اور ووٹ کی لالچ میں پڑے بغیر اس کام کو کریں ۔ چاہے کوئی تبدیلی کے کتنے ہی دعوے کرلیں جب تک آپ خود تبدیل نہیں ہونگے نہ آپ کو فوج صحیح کر سکتی ہے نا ڈاڑھی والے نہ ہی کلین شیو آپ پر کوئی اثر ڈال سکتے ہیں ۔ایسے لوگوں سے بالکل دور رہیں جو آپ کی مہارت کو مذہب یا سیاست کی بھینٹ دینے کے چکر میں آپ سے پینگیں بڑھائیں کیوں کہ اگر انھوں نے کچھ کرنا ہوتا تو اب تک کر چکے ہوتے ۔۔ کرنے والے اور ہوتے ہیں جیسے ایدھی ، جو کہ دوسروں کی مدد کے لیے بھیک مانگنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور تقوے کے ہیضے کا شکار کچھ سیاسی افراد اپنی طرف بڑھتے ہوئے رضا کار ہاتھوں کو بھکاری کا ہاتھ سمجھتے ہیں۔ اللہ ہمیں منافقت اور منافقین سے محفوظ فرمائے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.